جمعہ‬‮ ، 09 جنوری‬‮ 2026 

تنقیدکرنے والوں کیخلاف نیب کا استعمال بند کیا جائے، ہیومن رائٹس واچ کا پاکستانی حکومت سے مطالبہ

datetime 6  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی زیادتیوں اور اور بلاجواز گرفتاریوں پر تحقیقات اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کردیا۔ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکومت کو اپنی سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر عمل کرتے ہوئے حکومت پر تنقید کرنے والوں کے خلاف نیب کا استعمال بند کرنا چاہیے۔عالمی تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ

پاکستانی حکام کو نیب کی جانب سے غیر قانونی گرفتاریوں اور اختیارات کے غلط استعمال کی تحقیق کرنی چاہیے۔بیان میں کہا گیا کہ پاکستانی سپریم کورٹ نے اپوزیشن کے دو رہنماؤں خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کے کیس میں 20 جولائی 2020ء کو اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ نیب نے شفاف ٹرائل کے حق کو پامال کیا اور کسی معقول بنیاد کے بغیر دونوں کو 15 ماہ تک حراست میں رکھا۔ ہیومن رائٹس واچ نے جنگ اور جیو کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان کی حراست کو بھی حکومت کے ناقدین کو ہراساں کرنے کی ایک مثال قرار دیا ہے۔ہیومن رائٹس واچ ایشیا کے ڈائریکٹر بریڈ ایڈمز کا کہنا ہے کہ پاکستانی سپریم کورٹ کافیصلہ نیب کے غیر قانونی اقدامات پر تازہ ترین فرد جرم ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام کو مخالفین کو ڈرانے اور ہراساں کرنے کے لیے آمرانہ دور کے ادارے کا استعمال کرنا چھوڑ دیناچاہیے اور پارلیمنٹ کو قومی احتساب بیورو کو آزاد اور خود مختار بنانے کے لیے نیب آرڈیننس میں اصلاحات کرنی چاہئیں۔  انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی زیادتیوں اور اور بلاجواز گرفتاریوں پر تحقیقات اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کردیا۔ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکومت کو اپنی سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر عمل کرتے ہوئے حکومت پر تنقید کرنے والوں کے خلاف نیب کا استعمال بند کرنا چاہیے۔عالمی تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستانی حکام کو نیب کی جانب سے غیر قانونی گرفتاریوں اور اختیارات کے غلط استعمال کی تحقیق کرنی چاہیے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…