پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

تنقیدکرنے والوں کیخلاف نیب کا استعمال بند کیا جائے، ہیومن رائٹس واچ کا پاکستانی حکومت سے مطالبہ

datetime 6  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی زیادتیوں اور اور بلاجواز گرفتاریوں پر تحقیقات اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کردیا۔ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکومت کو اپنی سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر عمل کرتے ہوئے حکومت پر تنقید کرنے والوں کے خلاف نیب کا استعمال بند کرنا چاہیے۔عالمی تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ

پاکستانی حکام کو نیب کی جانب سے غیر قانونی گرفتاریوں اور اختیارات کے غلط استعمال کی تحقیق کرنی چاہیے۔بیان میں کہا گیا کہ پاکستانی سپریم کورٹ نے اپوزیشن کے دو رہنماؤں خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کے کیس میں 20 جولائی 2020ء کو اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ نیب نے شفاف ٹرائل کے حق کو پامال کیا اور کسی معقول بنیاد کے بغیر دونوں کو 15 ماہ تک حراست میں رکھا۔ ہیومن رائٹس واچ نے جنگ اور جیو کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان کی حراست کو بھی حکومت کے ناقدین کو ہراساں کرنے کی ایک مثال قرار دیا ہے۔ہیومن رائٹس واچ ایشیا کے ڈائریکٹر بریڈ ایڈمز کا کہنا ہے کہ پاکستانی سپریم کورٹ کافیصلہ نیب کے غیر قانونی اقدامات پر تازہ ترین فرد جرم ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام کو مخالفین کو ڈرانے اور ہراساں کرنے کے لیے آمرانہ دور کے ادارے کا استعمال کرنا چھوڑ دیناچاہیے اور پارلیمنٹ کو قومی احتساب بیورو کو آزاد اور خود مختار بنانے کے لیے نیب آرڈیننس میں اصلاحات کرنی چاہئیں۔  انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی زیادتیوں اور اور بلاجواز گرفتاریوں پر تحقیقات اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کردیا۔ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکومت کو اپنی سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر عمل کرتے ہوئے حکومت پر تنقید کرنے والوں کے خلاف نیب کا استعمال بند کرنا چاہیے۔عالمی تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستانی حکام کو نیب کی جانب سے غیر قانونی گرفتاریوں اور اختیارات کے غلط استعمال کی تحقیق کرنی چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…