جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

عیدالاضحی پرقربانی میں نمایاں کمی ، کھالوں کی قیمتوں میں بھی ریکارڈ کمی واقع

datetime 4  اگست‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)کورونا وبا کے باعث آمدنی گزشتہ چھ ماہ کے دوران کم ہونے سمیت بیروزگاری کی وجہ سے رواں سال عیدالاضحی کے موقع پرگزشتہ سال کی نسبت 9 فیصد کم قربانی کی گئی۔عالمی وبا کورونا کے باعث آمدن میں کمی اور بیروزگاری بڑھنے کی وجہ سے رواں سال عیدالاضحی کے موقع پر گزشتہ سال کی نسبت 9 فیصد کم قربانی کی گئی۔

ملک میں مجموعی طورپر73 لاکھ مویشیوں کی قربانی ہوئی جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد 80 لاکھ تھی، رواں سال عیدالاضحی کے موقع پر28 لاکھ گائے بیل، 36 لاکھ بکرے، 8لاکھ دمبے/بھیڑ اور1 لاکھ اونٹ قربانی کیے گئے۔پاکستان ٹینرزایسوسی ایشن کے نمائندے گلزارفروزنے بتایا کہ عالمی مارکیٹ چمڑے کی ڈیمانڈ کم ہونے سے ملک رواں سال عید سیزن میں کھالوں کی قیمتوں میں بھی 20 تا 46 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رواں سال گائے بیل کی کھال کی قیمت 700 تا 800 روپے ہے۔ بکرے کی فی کھال کی قیمت 150 روپے، دمبے یا بھیڑکی فی کھال کی قیمت 80 روپے جبکہ اونٹ کی فی کھال کی قیمت 400 روپے ہے۔انہوں نے بتایا کہ امریکا، یورپ، چین سمیت دنیا کے دیگر میں لیدرفیشن اور لیدرشوزکا رحجان محدود ہونے سے دنیا بھر میں لیدر کی ڈیمانڈ میں 50 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ دنیا بھرکے نوجوان اب فیبرک جوگرز اورٹیکسٹائل جوگرزکے استعمال کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کورونا وبا 6 ماہ سے ذرائع آمدن متاثر ہونے سے رواں سال کھالوں کا کاروبار2 ارب روپے گھٹ گیا ہے۔ گزشتہ عیدالاضحی کے سیزن میں 5 ارب روپے مالیت کے کھالوں کا کاروبارہوا تھا جبکہ اس سال صرف 3 ارب روپے کا کاروبارہوا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…