منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

کشمیر سے دستبردار ہو کر اب قوم کو بھاشن سے بہلایا جا رہا ہے،شاہ محمود قریشی اور ان کے وزیر اعظم کا بڑا کارنامہ مودی کے سامنے جھک جانا ہے، مولا بخش چانڈیو کا حیرت انگیز ردعمل

datetime 31  جولائی  2020 |

حیدرآباد(آن لائن) سیکریٹری اطلاعات پاکستان پیپلز پارٹی سینیٹر مولابخش چانڈیو نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی پریس کانفرنس پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر سے دستبردار ہو کر اب قوم کو بھاشن سے بہلایا جا رہا ہے، شاہ محمود قریشی پاکستان کی تاریخ کے ناکام ترین وزیر خارجہ ہیں، ناکام عمران حکومت کے ناکام وزیر خارجہ کی ناکام خارجہ پالیسی کی وجہ سے مودی کشمیر ہڑپ کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 5 اگست کو قوم حکومت کی ناکام کشمیر پالیسی کی برسی منائے گی، شاہ محمود قریشی اور ان کے وزیر اعظم کا بڑا کارنامہ مودی کے سامنے جھک جانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قریشی صاحب آپ کا بڑا کارنامہ بھارتی دہشتگرد جاسوس کلبھوشن کو این آر او دینا ہے ، کشمیر پالیسی ہویا ملکی سیاست عمران خان مشرف کی پالیسی پر چل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشرف نے مقبوضہ کشمیر بھارت کے حوالے کرنے کی جو پالیسی دی عمران خان نے اس پر عمل کیا- وزیر خارجہ اپنی ناکامیاں چھپانے کیلئے اپوزیشن کے ساتھ تصادم کرنا چاہتے ہیں۔ مولابخش چاڈیو کا کہنا تھا کہ قریشی صاحب سن لیں کہ بلاول بھٹو زرداری وقت کی آواز ہیں جسے کوئی بھی نہیں دبا سکے گا جبکہ بلاول بھٹو زرداری انکے جانشین ہیں جن کو آپ کے پیر و مرشد ضیاالحق اور مشرف بھی دبا نہیں سکے تھے۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمن بلاول بھٹو زرداری طلوع ہو رہے ہیں جبکہ شاہ محمود آپ اور آپ کے نئے سلیکٹڈ قائد ڈوب رہے ہیں۔ سیاست میں بداخلاقی کی تمام حدود پار کرنے والے اب اخلاقیات کا درس دے رہے ہیں- انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ میں بونوں کو لاکر قومی قائدین کے کردار پر حملے کروائے جاتے ہیں ، ہم عوام کے حقوق، جمہوریت اورآئین کی بات کرتے ہیں جواب میں گالم گلوچ شروع ہو جاتی ہے۔ مولابخش چانڈیو نے کہا کہ ہم کلبھوشن پر سوال کرتے ہیں تو یہ طوطے کی طرح این آر او نہیں دیں گے کی رٹ لگا دیتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…