بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

خیبرپختونخوا میں کئی سکینڈلز سامنے آچکے، یہ سب کچھ نیب کو نظر نہیں آرہا، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نیب ادارہ بے معنی ہوچکا،اسفندیارولی بھی کھل کر بول پڑے

datetime 22  جولائی  2020 |

پشاور(آن لائن) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان نے کہا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) بارے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد یہ ادارہ بے معنی ہوچکا ہے اور نیب چیئرمین کو اخلاقی طور پر استعفیٰ دے کر گھر جانا چاہیئے۔ باچاخان مرکز پشاور سے جاری بیان میں اے این پی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان نے کہا ہے کہ روز اول سے اے این پی کا موقف یہی ہے کہ نیب احتساب کے نام پر

اپوزیشن کو انتقام کا نشانہ بنارہا ہے اور اسی موقف پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے تصدیقی مہر ثبت کردی ہے، اسکے بعد نیب کے چیئرمین اخلاقی طور پر اس کرسی پر رہنے کا جواز کھوچکے ہیں، بہتر یہی ہوگا کہ وہ استعفیٰ دے کر گھر چلے جائے۔ اے این پی سربراہ کا کہنا تھا کہ نیب ایک آمر کا بنایا ہوا ادارہ ہے جسے ہمیشہ مخالفین کے خلاف استعمال کیا گیا اور یہی طریقہ آج بھی جاری ہے۔ نیب زدہ اور نیب زادہ کا قانون اب بھی چل رہا ہے کیونکہ حکومتی کرپشن پر احتساب کا ادارہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہا ہے۔ خیبرپختونخوا میں کئی سکینڈلز سامنے آچکے ہیں، مرکز اور دیگر صوبوں میں بھی حکومتی اراکین کے خلاف جامع رپورٹس تیار ہوچکی ہیں لیکن یہ سب کچھ نیب کو نظر نہیں آرہا۔ بی آر ٹی، مالم جبہ، پاکستان پوسٹ، آٹا چینی چوری، فری کتب تقسیم سمیت دیگر سکینڈلز میں کرپشن کی گئی، نیب نے خود فری کتب تقسیم میں 1.76ارب روپے کی کرپشن کی نشاندہی کی لیکن کارروائی کسی کے خلاف نہیں ہورہی۔ دوسری جانب صرف الزام پر اپوزیشن کے اراکین کو مہینوں تک جیلوں میں رکھا گیا اور ثبوت نہ دے سکے۔ آج حکومتی اراکین کے خلاف ثبوت بھی موجود ہیں لیکن قومی احتساب بیورو انکے خلاف کوئی کارروائی نہیں کررہی اسی لئے بہتر یہی ہوگا کہ اس ادارے کو ختم کردیا جائے۔  اسفندیارولی خان نے کہا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) بارے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد یہ ادارہ بے معنی ہوچکا ہے اور نیب چیئرمین کو اخلاقی طور پر استعفیٰ دے کر گھر جانا چاہیئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…