پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

حکومت کا قرض کتنے کھرب تک پہنچ گیا؟ اسٹیٹ بینک نے اعداد و شمار جاری کر دیے

datetime 14  جولائی  2020 |

کراچی(این این آئی)اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی تازہ رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت کا قرض مئی کے آخر تک اوسطا 14.2 ارب یومیہ کے حساب سے 34.5 کھرب روپے ہو گیا ہے، وفاقی حکومت کا 34.5 کھرب روپے کا قرض ان واجبات کے علاوہ ہے جس کیلئے حکومت بالواسطہ قرض دہندگان کے مقروض ہے، اس طرح مجموعی ملکی قرض مرکزی حکومت کے قرض سے کہیں زیادہ ہے ،

جس کے اعداد و شمار اگلے ماہ دستیاب ہوں گے۔مثال کے طور پر مارچ 2020 کے اختتام تک مجموعی ملکی قرض بڑھ کر 35.2 کھرب روپے ہوچکا ہے۔گذشتہ مئی میں وفاقی حکومت کا قرض مرکزی بینک اور سرکاری شعبہ کے کاروباری اداروں کے قرض اور واجبات کے علاوہ 29.8 کھرب روپے تھا، سالانہ بنیادوں پر کرنسی کی قدر میں کمی ، ٹیکس محصولات میں عارضی کمی اور کورونا وائرس کے تدارک کیلئے غیر متوقع اخراجات کی وجہ سے وفاقی حکومت کا قرض 15.8 فیصد یا 4.7 کھرب روپے بڑھ گیا۔ضمنی گرانٹ کی بجٹ کتاب سے ظاہر ہوا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے گذشتہ مالی سال کے دوران مئی سے جون میں جو قرضہ حاصل کیا، اس میں کورونا وبا کے خلاف 289.4 ارب روپے خرچ کئے گئے جو 6 فیصد بنتا ہے۔پی ٹی آئی کی حکومت اقتدار میں آنے کے بعد مجموعی طور پر ملکی قرضوں میں 10.2 ٹریلین روپے سے زیادہ کا اضافہ کر چکی ہے ، قرضوں میں یہ 44 فیصد کا اضافہ ملک کے لئے انتہائی تشویش ناک ہے۔اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق عالمی وبا کے باوجود جون میں ترسیلات زر کی وصولی میں 50.73 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ وفاقی حکومت کا قرض مئی کے آخر تک اوسطا 14.2 ارب یومیہ کے حساب سے 34.5 کھرب روپے ہو گیا ہے، وفاقی حکومت کا 34.5 کھرب روپے کا قرض ان واجبات کے علاوہ ہے جس کیلئے حکومت بالواسطہ قرض دہندگان کے مقروض ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…