بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

آصف زرداری کے لئے کوئی کاروبار نہیں کر تا ،اعجاز ہارون قریبی دوست ہیں، سلیم مانڈوی والاکی نیب کے سامنے پیشی کی اندرونی کہانی

datetime 10  جولائی  2020 |

اسلام آباد(آن لائن )ڈپٹی چیرمین سینٹ سلیم مانڈوی والا نے نیب کو بتایا ہے کہ آصف علی زرداری کے لئے کوئی کاروبار نہیں کر تا ،اعجاز ہارون قریبی دوست ہیں، کاروبار اور چیکس پر دستخط تو آج بھی کرتا ہوں، ریفرنس دائر کرنا چاہتے ہیں تو کر لیں، میرا یا میرے بھائی کا نام آتا ہے تو کوئی مسئلہ نہیں۔ذرائع کے مطابق ڈپٹی چیرمین سینٹ سلیم مانڈوی والا کی نیب کے سامنے پیشی کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے ۔

ذرائع کے مطابق نیب کی جانب سے سلیم مانڈوی والا سے سوال کیا گیا کہ اعجاز ہارون آپ کے قریبی دوست ہیں ،معلومات کے مطابق اعجاز ہارون نے آپ کو رقم بھی دی ،بعض بینک چیکس پر آپ کے دستخط بھی ہیں۔سلیم مانڈوی والا نے جواب دیتے ہوئے کہا اعجاز ہارون میرے قریبی دوست ہیں، کاروبار اور چیکس پر دستخط تو میں آج بھی کرتا ہوں۔نیب حکام نے کہا ہمیں ریفرنس دائر کرنا پڑے گا، ریفرنس میں آپ اور آپ کے بھائی کا نام بھی شامل کرنا پڑے گا۔اس پر سلیم مانڈوی والا نے نیب کو دو ٹوک جواب دیا کہ آپ ریفرنس دائر کرنا چاہتے ہیں تو کر لیں۔ریفرنس میں میرا یا میرے بھائی کا نام آتا ہے تو کوئی مسئلہ نہیں۔نیب کی جانب سے پوچھا گیا آپ آصف علی زرداری کے لئے بھی کاروبار کرتے ہیں جس پر انہوں نے کہا میں آصف علی زرداری کے لئے کوئی کاروبار نہیں کرتا۔ ذرائع کے مطابق ڈپٹی چیرمین سینٹ سلیم مانڈوی والا کی نیب کے سامنے پیشی کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے ۔ذرائع کے مطابق نیب کی جانب سے سلیم مانڈوی والا سے سوال کیا گیا کہ اعجاز ہارون آپ کے قریبی دوست ہیں ،معلومات کے مطابق اعجاز ہارون نے آپ کو رقم بھی دی ،بعض بینک چیکس پر آپ کے دستخط بھی ہیں۔سلیم مانڈوی والا نے جواب دیتے ہوئے کہا اعجاز ہارون میرے قریبی دوست ہیں، کاروبار اور چیکس پر دستخط تو میں آج بھی کرتا ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…