جمعہ‬‮ ، 09 جنوری‬‮ 2026 

خسارہ ختم کرنے کے لئے عوام کو قربانی کا بکرا نہ بنایا جائے،عوام میں کھربوں روپے کا بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں، درجنوں ممالک کی نسبت پاکستان میں کیا کام کیا گیا؟

datetime 5  جولائی  2020 |

کراچی(این این آئی) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ خسارہ ختم کرنے کے لئے عوام کو قربانی کا بکرا نہ بنایا جائے۔غریب عوام میں کھربوں روپے کا بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں۔وبا کے بعددرجنوں ممالک امیر وں پر ٹیکس بڑھا چکے ہیں مگر پاکستان میں اس کا سارا ملبہ غریب عوام پر ڈال دیا گیا ہے۔اس وقت سو روپے کا پٹرول خریدنے والے عوام اس پر پینتالیس روپے ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ کرنسی کی قدر کم کرنا اور مہنگائی میں اضافہ کرنا حکومت کی آمدنی بڑھانے کا سب سے آسان زریعہ ہے تاہم گزشتہ دو سال میں ایک ہزار ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگانے اور روپے کی قدرمیں چالیس فیصد کمی کے باوجود نہ تو حکومت کی آمدنی بڑھی نہ برامدات میں اضافہ کیا جا سکا ہے مگر عوام نے اسے بھگتا۔ہاٹ منی کے حصول کے لئے شرح سود زیادہ رکھی گئی جس نے ملکی معیشت کو نقصان اور غیر ملکیوں کو فائدہ پہنچایا اور حال ہی میں شرح سود میں ایک فیصد کمی سے ایک دن پہلے بھاری سود پر 121 ارب کے بانڈ جاری کئے گئے جن کی قیمت یہ قوم اور انکے آنے والی نسلیں ادا کریں گے۔انھوں نے کہا کہ جس طرح پشاور میٹرو کی لاگت میں سو فیصد اضافہ کے باوجود اسکی تکمیل ایک خواب بن گئی ہے اسی طرح ادویات سکینڈل، مالم جبہ، بلین ٹری سونامی، شوگر، گندم، آئی پی پیزاور دیگر معاملات میں بھی قابل ذکر کاروائی بھی مشکل نظر آتی ہے جبکہ کراچی کے بعد ملک بھر میں بجلی کی قیمت بڑھانے کے منصوبے پر کام جاری ہے جس سے کمزور معیشت اور عوام کو ایک اور دھچکا لگے گا جبکہ گیس کی قیمتوں میں اضافہ کی خوشخبری بھی جلد ہی ملنے والی ہے۔معاملات پر کنٹرول نہ ہونے اور عوام پر مسلسل ٹیکس لگانے سے مہنگائی کا جن سارے ملک پر چھا گیا ہے جس نے عوام کی چیخیں نکلا دی ہیں اور وہ بد دل ہو رہے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…