ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

مجھے کسی قسم کا سمن موصول نہیں ہوا، امریکی خاتون سینتھیا رچی نے عدالتی سمن سے لاعلمی کااظہار کردیا

datetime 3  جولائی  2020 |

اسلام آباد(آن لائن)امریکی خاتون بلاگر سینتھیا ڈی رچی اسلام آبادہائیکورٹ میں کیس کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کے دوران توہین عدالت کے سمن سے لا علمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ مجھے کسی قسم کا سمن موصول نہیں ہوا،سوشل میڈیا پر ای سی ایل کا نوٹس بھی گردش کر رہا ہے،سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی چیزیں احمقانہ ہوتی ہیں، سینتھیا ڈی رچی نے کہاکہ میں عدالتوں اور قانون کا احترام کرتی ہوں

،اگر کوئی نوٹس موصول ہوا تو اس کی پاسداری کروں گی۔ دوسری جانب اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی عدالت نے امریکی بلاگر خاتون سنتھیارچی کے خلاف پیپلزپارٹی کی درخواست پرکیس وزارت داخلہ کو بھجواتے ہوئے قانون کے مطابق کاروائی کرنے اور رپورٹ عدالت جمع کرانے کی ہدایت کردی۔گذشتہ روز سماعت کے دوران پیپلز پارٹی کی جانب سے سردار لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ عدالت پیش ہوئے،اس موقع پرڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ نے عدالت کو بتایاکہ سنتھیا ڈی رچی کا بزنس ویزہ 2مارچ کو ختم ہو چکا،کورونا کی وجہ سے حکومت نے غیر ملکیوں کے ویزوں میں توسیع دے دی، سنتھیا نے ویزہ میں توسیع کی درخواست دی جو ابھی زیر التوا ہے،چیف جسٹس نے کہاکہ جس کا ویزہ ختم ہو جائے اس کے حوالے سے قانون کیا کہتا ہے؟ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے جوائنٹ سیکرٹری داخلہ سے استفسارکیاکہ کچھ رولز ریگولیشنز ہوں گے ضابطہ اخلاق کیا یے؟ اس موقع پرضابطہ اخلاق کے حوالے سے جوائنٹ سیکرٹری کی جانب سے لاعلمی پر عدالت نے برہمی کااظہار کرتے  ہوئے کہاکہ بہت غیرذمہ دارانہ بیان دے رہے ہیں،لگتا ہے آپ مکمل تیار نہیں یا آپ کو معلومات ہی نہیں،کیا ویزہ لینئ  والے پرکوئی پابندی بھی ہوتی ہے یاجس کا جو دل چاہے کرے، اس پر جوائنٹ سیکرٹری داخلہ نے کہاکہ ویزہ رولز تو ہیں لیکن کوئی خاص پابندی نہیں،ویزہ کی 16 کیٹیگریز ہیں،96

ممالک کی لسٹ ہے ان کو بزنس فرینڈلی کہتے ہیں، چیف جسٹس نے کہاکہ جن کے ویزوں کی مدت ختم ہو گئی ان کی تعداد کیا ہے؟ جس پر جوائنٹ سیکرٹری داخلہ نے کہاکہ ابھی معلوم نہیں ،اس پر چیف جسٹس نے کہاکہ آپ کیسی بات کر رہے ہیں آپ کو پتہ ہی نہیں،آپ کیسے مانیٹر کرتے ہیں میکنزم کیا یے،جوائنٹ سیکرٹری نے کہاکہ آن لائن سسٹم ہی بتاتا ہے،چیف جسٹس نے کہاکہ کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ

جو آرہا ہے ریاست کے پاس اس کا ڈیٹا ہی نہیں،جوائنٹ سیکرٹری نے کہاکہ اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی کرے تو ایف آئی اے کاروائی کر سکتا یے،چیف جسٹس نے کہاکہ جو بزنس ویزہ پر یہاں آیا ہے کیا وہ کوئی ملازمت کر سکتا ہے؟،ویزہ میں توسیع نہیں ہوئی اور آپ کے پاس قانون ہی نہیں،لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ نے کہاکہ آج بھی سنتھیا نے کہا کہ بلاول ڈی این اے کرائے،

عدالت نے وزارت داخلہ کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت جمعہ تک ملتوی کردی اور یہ ہدایت بھی کی کہ وزارت داخلہ قانون کو مدنظر رکھ کر درخواست کا فیصلہ کرے اور درخواست پر فیصلے بعد کاپی عدالت میں جمع کرائے۔یادرہے کہ پیپلز پارٹی نے ویزہ کی معیاد ختم ہونے پر سنتھیا رچی کو ڈی پورٹ کرنے کی درخواست دائر کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…