ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

’’ آج بھی سنتھیا نے کہا کہ بلاول ڈی این اے کرائے‘‘ویزہ مدت کا خاتمہ ، کچھ رولز ریگولیشنز ہوں گے ضابطہ اخلاق کیا ہے؟چیف جسٹس اطہر من اللہ نے  سنتھیارچی کیخلاف پیپلزپارٹی کی درخواست پر بڑا حکم جاری کر دیا 

datetime 3  جولائی  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزارت داخلہ کو سنتھیا رچی کے خلاف پیپلزپارٹی کی درخواست کا فیصلہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزارت داخلہ قانون کو مدنظر رکھ کر درخواست کا فیصلہ کرے،وزارت داخلہ درخواست پر فیصلے بعد کاپی عدالت میں جمع کرائے۔پیپلز پارٹی کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی ،پیپلز پارٹی نے ویزہ کی معیاد ختم ہونے پر

سنتھیا رچی کو ڈی پورٹ کرنے کی درخواست دائر کی تھی ۔پیپلز پارٹی کی جانب سے سردار لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ عدالت کے سامنے پیش ہوئے ۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ نے کہاکہ سنتھیا ڈی رچی کا بزنس ویزہ  دو مارچ کو ختم ہو چکا ہے ،کورونا کی وجہ سے حکومت نے غیر ملکیوں کے ویزوں میں توسیع دے دی۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہاکہ سنتھیا نے ویزہ میں توسیع کی درخواست دی جو ابھی زیر التوا ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ جس کا ویزہ ختم ہو جائے اس کے حوالے سے قانون کیا کہتا ہے؟ ۔ چیف جسٹس نے جوائنٹ سیکرٹری داخلہ سے استفسار کیا کہ کچھ رولز ریگولیشنز ہوں گے ضابطہ اخلاق کیا ہے؟۔ضابطہ اخلاق کے حوالے سے جوائنٹ سیکرٹری کی جانب سے لاعلمی پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ لگتا ہے آپ مکمل تیار نہیں یا آپ کو معلومات ہی نہیں۔جوائنٹ سیکرٹری داخلہ نے عدالت کے سامنے بیان دیا کہ ویزہ کی 16 کیٹیگریز ہیں،96 ممالک کی لسٹ ہے ان کو بزنس فرینڈلی کہتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ جن کے ویزوں کی مدت ختم ہو گئی ان کی تعداد کیا ہے؟ ،جوائنٹ سیکرٹری داخلہ نے بتایاکہ ابھی معلوم نہیں ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ آپ کیسی بات کر رہے ہیں آپ کو پتہ ہی نہیں، آپ کیسے مانیٹر کرتے ہیں میکنزم کیا ہے۔ جوائنٹ سیکرٹری داخلہ نے کہاکہ آن لائن سسٹم ہی بتاتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ جو آرہا ہے ریاست کے پاس اس کا ڈیٹا ہی نہیں، جوائنٹ سیکرٹری نے کہاکہ اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی کرے تو ایف آئی اے کاروائی کر سکتاہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ جو بزنس ویزہ پر یہاں آیا ہے کیا وہ کوئی ملازمت کر سکتا ہے؟ ویزہ میں توسیع نہیں ہوئی اور آپ کے پاس قانون ہی نہیں۔ لطیف کھوسہ نے کہاکہ آج بھی سنتھیا نے کہا کہ بلاول ڈی این اے کرائے۔عدالت نے وزارت داخلہ کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت جمعہ تک ملتوی کردی کر دی ۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…