جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

نجی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے بائیکاٹ کی مہم سوشل میڈیا پر زور پکڑ گئی، انتہائی تہلکہ خیز پیغامات

datetime 28  جون‬‮  2020 |

اسلام اباد (آن لائن) نجی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے بائیکاٹ کی مہم سوشل میڈیا پر زور پکڑ گئی۔ آئل بحران کے دنوں میں پی ایس او کے علاوہ دیگر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے پٹرول ذخیرہ کرنے کے لیے فنی خرابی کے بورڈ لگا کر پٹرول کی فروخت بند کر دی تھی جس کیوجہ سے عوام پٹرول کی تلاش میں خوار ہوتی رہی۔ اس طر ح ان کمپنیوں نے پٹرول ذخیرہ کر کے اربوں روپے کا ناجائز منافع کمایا تھا۔

جبکہ پاکستانی اسٹیٹ آئل کمپنی کے پمپوں پر صرف تیل دستیاب تھا۔ جس وجہ سے اوگرا نے متعدد کمپنیوں کو کروڑوں روپے جرمانہ کیا مگر انہی کمپنیوں نے قبل از وقت پٹرول مہنگا ہونے کے باعث اب دوبارہ سے اربوں روپے کما لیے۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر چلنے والی مہم اور پیغامات میں کہا جارہا ہے کہ کل سے پورے ملک میں پیٹرول وافر مقدار میں ملے گا کیونکہ پیٹرول فی لیٹر 100 روپے کا تقریبا ہو گیاہے ان پیغامات میں کہا جارہا ہے چونکہ سرکاری ادارے کاروائی کرنے میں بے بس ہیں وہ صرف تنخواہیں لے سکتے ہیں اس لیے نجی کمپنیوں نے کچھ دن پہلے آپ لوگوں کو پٹرول کے لیے ذلیل کیا تھا آج آپ کا دن ہے نجی کمپنیوں سے بالکل بائیکاٹ کردیں ان سے پٹرول لینا بند کردیں۔پیٹرول صرف اور صرف PSO سے ڈلوائیں بلکہ غیر سرکاری پمپوں پر جائیں اور کہیں کل جب سستا تھا تو نہیں دیتے تھے اب ہم پی ایس او سے ڈلوائیں گے۔غیر سرکاری کمپنیوں سے صرف 10 دن ان سے پٹرول نا خریدو مکمل بائیکاٹ کرو۔  آئل بحران کے دنوں میں پی ایس او کے علاوہ دیگر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے پٹرول ذخیرہ کرنے کے لیے فنی خرابی کے بورڈ لگا کر پٹرول کی فروخت بند کر دی تھی جس کیوجہ سے عوام پٹرول کی تلاش میں خوار ہوتی رہی۔ اس طر ح ان کمپنیوں نے پٹرول ذخیرہ کر کے اربوں روپے کا ناجائز منافع کمایا تھا۔ جبکہ پاکستانی اسٹیٹ آئل کمپنی کے پمپوں پر صرف تیل دستیاب تھا۔ جس وجہ سے اوگرا نے متعدد کمپنیوں کو کروڑوں روپے جرمانہ کیا مگر انہی کمپنیوں نے قبل از وقت پٹرول مہنگا ہونے کے باعث اب دوبارہ سے اربوں روپے کما لیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…