جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

وفاقی حکومت کیلئے دو اتحادی جماعتیں دردِ سر بن گئیں، حکومت کی پریشانی میں مزید اضافہ

datetime 28  جون‬‮  2020 |

کوئٹہ ( آن لائن ) پاکستان تحریک انصاف معاشی اور کرونا (کورونا)وبا کے ساتھ ساتھ ایک سیاسی بحران سے بھی دوچار ہے اس بار وفاقی حکومت کے لیے بلوچستان کی دو اتحادی جماعتیں دردِ سر بنی ہوئی ہیںبلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹر منظور احمد کاکڑ کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے بجٹ میں 30 ارب روپے کا کٹ لگا کر ہمیں 10 ارب روپے دیے ہیں، جس سے پاکستان کے 44 فیصد حصے کو کیسے ترقی دی جائے؟

میڈیا رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت کو اس وقت کورونا کے علاوہ سیاسی مسائل کا بھی سامنا ہے ان میں سے ایک جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی تو حکومتی اتحاد سے علیحدہ ہوچکی ہے جبکہ دوسری جماعت بلوچستان عوامی پارٹی (باپ )کے بعض اراکین وفاق کی جانب سے بلوچستان کو حقوق کی عدم فراہمی کو وجہ بناتے ہوئے حکومت کو مشکل وقت دینے کے لیے تیار ہیں گوکہ بلوچستان عوامی پارٹی کے سربراہ اور وزیراعلی بلوچستان جام کمال نے حکومتی اتحاد چھوڑنے کی خبروں کی تردید کی ہے تاہم ان کی جماعت کے ایک سینیٹر منظور احمد کاکڑ نے گذشتہ روز ایوان بالا میں ایک تند وتیز تقریر کے دوران کہا کہ ‘ہم حکومت سے بھیک نہیں مانگ رہے بلکہ اپنا حق چاہتے ہیں جو ہمارے وسائل ہیں وہ دیے جائیں کاکڑ نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے بجٹ میں 30 ارب روپے کا کٹ لگا کر ہمیں 10 ارب روپے دیے ہیں، جس سے پاکستان کے 44 فیصد حصے کو کیسے ترقی دی جائے؟سیاسی مبصرین سمجھتے ہیں کہ روز اول سے ہی پاکستان میں وفاق چھوٹی اکائیوں کے حقوق غصب کررہا ہے، اس میں سب سے زیادہ حق بلوچستان کا مارا گیا، جس کی تازہ مثال یہ ہے کہ پلاننگ کمیشن کے اجلاس میں خود بلوچستان کے وزیراعلی تک کواعتماد میں لینے کی زحمت گوارا نہیں کی گئی بلوچستان کے سیاسی معاملات پر نظر رکھنے والے سینیئر صحافی، تجزیہ نگار اور ڈان نیوز کے بیورو چیف سید علی شاہ کے مطابق بلوچستان عوامی پارٹی

اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان اختلافات موجود ہیں جس کا واضح ثبوت پلاننگ کمیشن کے اجلاس سے وزیراعلی جام کمال کا بائیکاٹ کرنا ہے واضح رہے کہ جام کمال نے اس سے قبل بلوچستان میں برفباری کے دوران وفاقی محکموں کی طرف سے نظر انداز کرنے پر شکوہ کیا تھا کہ ‘وفاق نے ثابت کردیا کہ بلوچستان کبھی بھی اس کی دلچسپی کا مرکز نہیں رہا’بلوچستان عوامی پارٹی کے قومی اسمبلی میں پانچ ارکان اور دو سینیٹرز ہیں جبکہ

بلوچستان میں بھی وہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ مل کر حکومت چلا رہی ہے سید علی شاہ کے بقول: ‘بجٹ میں بلوچستان کے منصوبوں کو نظر انداز کیا گیا جو صوبے کی احساس محرومی میں مزید اضافے کا باعث ہوسکتا ہے ۔ اس بجٹ میں بلوچستان میں غربت، بھوک افلاس اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے کوئی میگا منصوبہ شامل نہیں کیا گیاوزیراعلی بلوچستان نے ایک بار پھر اس بات کواپنے ایک سرکاری بیان میں دہرایا ہے کہ ‘وفاقی

پی ایس ڈی پر ہمارے تحفظات ہیں جن کو وزیراعظم عمران خان تک بھی پہنچایا گیا ہے تاہم ہم نے وفاقی حکومت سے علیحدگی کا کوئی فیصلہ نہیں کیاادھر انوار الحق کاکڑ سمجھتے ہیں کہ پلاننگ کمیشن کے لیے کم وقت دینا اور منصوبے شامل نہ کرنے کو وہ صوبے کے ساتھ مذاق کے مترادف سمجھتے ہیں ‘پلاننگ کمیشن کے ذریعے ہم اپنے فنانشنل پروجیکٹ کو ترتیب دیتے ہیں، معیشت میں اضافے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں جو نہ ہوسکانوار الحق کاکڑ کے مطابق: ‘این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے جاوید جبار بہتر نمائندگی کرسکتے تھے لیکن منفی نکتہ چینی سے ہم نے یہ موقع ضائع کردیاان کا ماننا ہے کہ

صوبے کے مسائل کو حل کرنے کے لیے بہترین ذہنوں کی ضرورت ہے۔ ‘امریکہ اگر آج سپر ہاور ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے پاس بہترین دماغ موجود ہیں، لیکن اس بات کو ہم نہیں سمجھتے انہوں نے کہا کہ پلاننگ کمیشن میں نظر انداز کرنے کے حوالے سے ہم نے اپنے تحفظات لیڈر آف ہائوس ڈاکٹر شہزاد وسیم کو بتائے جنہوں نے یہ تحفظات وزیراعظم تک پہنچانے کی یقین دہانی کرائی ہے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خود بلوچستان عوامی پارٹی کے بعض اراکین وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت سے اتحاد ختم کرنے کے حامی ہیں، گوکہ جماعت کے سربراہ اور وزیراعلی بلوچستان نے وفاقی حکومت سے اتحاد ختم کرنے کی خبروں کی تردید کی ہے لیکن ان کی جماعت کے اراکین کی اٹھنے والی کمزور مگر پراثر آوازیں اتحاد ٹوٹنے کی جانب واضح اشارہ ہوسکتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…