جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

وفاقی وزارتوں اور محکموں میں سینکڑوں ارب کی بدعنوانیاں اور بے ضابطگیاں، رپورٹ میں دھماکہ خیز انکشافات

datetime 28  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں تیار ہونے والی آڈٹ رپورٹ منظر عام پر آ گئی۔ آڈٹ رپورٹ میں وفاقی وزارتوں اور محکموں میں 270 ارب روپے کی بدعنوانیوں اور بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ کرپشن اور جعلی رسیدوں کی مد میں 12 ارب 56 کروڑ روپے کی بدعنوانیوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف کے

سال 2019-20 کی آڈٹ رپورٹ تیار کی ہے جس میں اربوں روپے کی کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے 40 وفاقی وزارتوں اور مختلف محکموں کاآڈٹ کیاہے جس میں کرپشن اور جعلی رسیدوں کی مد میں 12 ارب 56 کروڑ روپے کی بدعنوانیاں اور بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سرکاری اداروں نے 17 ارب 96 کروڑ روپے کا آڈٹ ریکارڈ آڈیٹر جنرل کے حوالے نہیں کیا اسی طرح کمزور انٹرنل کنٹرول کے 8 ارب 89 کروڑ کے کیسز بھی سامنے آئے ہیں جبکہ کمزور مالیاتی مینجمنٹ کے 152 ارب روپے 20 کروڑ کے بھی کیسز سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ کرپشن کے جتنے بھی کیسز ہیں انہیں تحقیقاتی اور متعلقہ اداروں کے سپرد کیا جائے۔پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر سرکاری اداروں کو اخراجات کرنے سے روکا جائے بلکہ پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر سپلمنٹری گرانٹس جاری کرنے کا بھی سلسلہ بند کیا جائے۔ آڈٹ رپورٹ میں وفاقی وزارتوں اور محکموں میں 270 ارب روپے کی بدعنوانیوں اور بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ کرپشن اور جعلی رسیدوں کی مد میں 12 ارب 56 کروڑ روپے کی بدعنوانیوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف کے سال 2019-20 کی آڈٹ رپورٹ تیار کی ہے جس میں اربوں روپے کی کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے 40 وفاقی وزارتوں اور مختلف محکموں کاآڈٹ کیاہے جس میں کرپشن اور جعلی رسیدوں کی مد میں 12 ارب 56 کروڑ روپے کی بدعنوانیاں اور بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…