جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

عمران خان اور پاکستان ایک ساتھ نہیں چل سکتے، وزیراعظم عمران خان سے استعفیٰ مانگ لیا گیا

datetime 27  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن)پاکستان مسلم لیگ(ن)نے وزیر اعظم عمران خان سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان اور پاکستان ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ عمران خان اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے مستعفی ہو جائیں اور پاکستان تحریک انصاف اپنا نیا لیڈر چن لے۔سارا پاکستان خان کی انارکی کی ضد میں ہے عمران خان کو زیادہ مہلت دی گئی تو ملک ایسی جگہ پہنچ جائے گا جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہو گی۔

حکومت کو 55 سے 56 روپے مل رہا ہے اور حکومتی ٹیکس کی وجہ سے عوام کو پٹرول 100 روپے میں مل رہاہے پٹرولیم کمپنیاں 15 روپے اضافہ مانگ رہی تھیں باقی 10 روپے کس کھاتے میں جا رہے ہیں۔ ہفتہ کو اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ(ن) کے راہنما خواجہ آصف نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے 2013 اور 2018 میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق ٹوئیٹ کئے جن میں انہوں نے پٹرولیم قیمتوں میں اضافے سے متعلق کافی غم و غصہ اور تنقید کی وہ کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں انکے آئے روز بیان بدلتے رہتے ہیں حکومت نے 30 جون کا بھی انتظار نہیں کیا اور رات کی تاریکی میں یکدم پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 25 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیاہے جو عوام پر سراسر ظلم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول کی قیمتیں بڑھی ہیں تو ملک میں مہنگائی کا طوفان برپا ہو گا۔ عمران خان کو زیادہ دیر مہلت دی تو پاکستان ایسی جگہ پہنچ جائے گتا جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہو گی۔ پاکستان اور عمران خان ایک ساتھ نہیں چل سکتے اور نہ ہی وہ ملک چلانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ سارا پاکستان خان کی انا کی ضد میں ہے انہوں نے کہا کہ عمران خان اپنی نااہلی کا اعتراف کرتے ہوئے فوری طور پر استعفی دیں اور پاکستان تحریک انصاف اپنا لیڈر چن لے۔ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رات گئے

اضافہ باعث تشویش ہے۔ ہمارے دور میں پٹرول 70 ڈالر فی بیرل تھا پٹرول کی قیمت میں 34 فیصد اضافہ نامنظور ہے پٹرول کی قی مت میں 34 فیصد کر کے عوام پر بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ حکومتی ٹیکس کی وجہ سے پٹرول 100 روپے کر دیا گیا ہے۔ حکومت کو پٹرول فی لیٹر 55 سے 56 روپے میں مل رہا ہے جبکہ 44 روپے ٹیکس لاگو ہے حکومت نے پٹرولیم قیمتیں بڑھا کر عوام کی قوت خرید سے باہر کر دیا ہے۔ حالانکہ پٹرول کی حقیقی قی مت 67 روپے فی لیٹر بنتی ہے۔

پٹرولیم کمپنیوں نے 15 روپے فی لیٹر اضافہ کا مطالبہ کیا تھا۔ سمجھ سے بالاتر ہے کہ 10 روپے اوپر والے کس کھاتے میں جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت ٹیکس اہداف حاصل کرنے اور معیشت کو سنبھالنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ہم نے حکومتی نااہلی کا مقدمہ عوام کے سامنے رکھ دیا ہے سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ایسی تبدیلی کا حصہ نہیں بنیں گے جو جمہوریت کے لئے نقصان دہ ہو اس موقع پر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ عمران خان کی ریٹائرمنٹ کا وقت ہو گیا ہے حکومت نے پٹرول قیمت میں اضافہ کر کے عوام کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ پٹرول قیمتوں میں اضافہ کسی صورت میں منظور نہیں ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…