جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

جعلی ڈگری والے پائلٹس کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے،وفاقی وزیر غلام سرور کی ڈگری بارے بھی دھماکہ خیز بات کردی گئی

datetime 26  جون‬‮  2020 |

ا سلام آباد (این این آئی)پاکستان پیپلزپارٹی کی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات پلوشہ خان نے غلام سرور خان کی پریس کانفرنس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ اگر جعلی ڈگری پر خدانخواستہ کوئی پائلٹ کام کررہا ہے تو اسے قرار واقعی سزا ملنی چاہئیے مگر غلام سرور اپنی ڈگری کا تو بتائیں،غلام سرور خان سات سال تک پنجاب ٹینکل بورڈ کے جعلی ڈپلومے کا کیس بھگتے رہے اور اب دوسروں کی ڈگریاں چیک کررہے ہیں،

پائلٹس کی ڈگری پر سوال اٹھانے والے غلام سرور خان کی اپنی ڈگری عدالت میں چیلنج ہوگئی تھی۔ ایک بیان میں پلوشہ خان نے کہاکہ کوئی بھی سیاسی جماعت جعلی ڈگری پر پائلٹوں کو بھرتی نہیں کرسکتی، اگر کوئی پائلٹ جعلی ڈگری پر بھرتی ہوا ہے تو سول ایوی ایشن اتھارٹی اس کی ذمہ دار ہے، پائلٹ خود اپنی ڈگریوں کا معاملہ عدالت لے کر گئے، جہاں یہ کیس زیرسماعت ہے۔پلوشہ خان نے کہاکہ سیاسی جماعتوں کا کام پائلٹوں کی بھرتی نہیں، یہ اداروں کے ہیومن ریسورسز کا کام ہوتا ہے، سیاسی مخالفت کی آڑ میں پی ٹی آئی ملک کو بدنام کررہی ہے، حکومت پاکستانی پائلٹوں کی جعلی ڈگریوں کی بات کرکے دنیا میں پاکستان کا منفی امیج بنارہی ہے، اگر پائلٹس کی جعلی ڈگریوں کے معاملے پر پاکستان ائیرلائن پر کوئی پابندی لگتی ہے تو کون ذمہ دار ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ پوری دنیا کے میڈیا میں پائلٹس کی جعلی ڈگریوں کے معاملے پر تضحیک ہورہی ہے اور حکومت سیاسی پوائنٹ اسکورنگ میں مصروف ہے، حکومت سیاسی جماعتوں کی مخالفت میں وہ حد عبور نہ کرے کہ جس سے ملک کی بدنامی ہو، پائلٹوں کی جعلی ڈگریوں کی بات کرکے غلام سرور خان مسافروں کا قومی ائیرلائن پر سے اعتماد ختم کررہے ہیں۔پلوشہ خان نے کہاکہ اگر پی ٹی آئی میں میرٹ کی بات کی جائے تو وزیراعظم سمیت آدھی کابینہ فارغ ہوجائے گی، اپنے اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کرکے یہ نوکریوں سے نکالنے کا نیا طریقہ ہے، اسٹیل ملز کے بعد پی آئی اے سے بھی لوگوں کو نوکریوں سے نکالنے کی سازش کی جارہی ہے، عمران خان اپنے دوستوں کو پی آئی اے فروخت کرنے کے لئے سازشیں کررہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…