جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

“میرے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر سانحہ ماڈل ٹاؤن کے انصاف کا وعدہ کرنے والے حکمران خاموش کیوں ہیں؟ریاست مدینہ بنانے کا دعویٰ کرنے والے بھی تاحال سانحہ کے مظلوموں کو انصاف کیوں نہیں دلا سکے، طاہر القادری نے خاموشی توڑ دی

datetime 19  جون‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)ریاست مدینہ بنانے کا دعویٰ کرنے والے تاحال ماڈل ٹائون سانحہ کے مظلوموں کو انصاف کیوں نہیں دلا سکے ۔ ویڈیو پیغام میں مہناج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ اسلام کے نام پر بنائے جانے والے ملک میں 6سال گزر جانے کے باوجود سانحہ ماڈل ٹائون کے مظلوم لوگوں کو انصاف کیوں نہیں دلایا جا سکا ۔ میرے شانہ بشانہ کھڑے ہر کر انصاف کا وعدہ کرنے والے

حکمران آج کیوں خاموش ہیں ۔ ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا تھا کہ پہلے اس ملک پر ایسے حکمرانوں کا کی حکومت تھی جنہوں نے رات کی تاریکی میں انسانوں کے خون کی ہولی کھیلی اور نہتے شہریوں کو گولیاں مار کر شہید کیا ہمیں ان حکمران کیخلاف انصاف چاہیے تھا ۔ آج ریاست مدینہ بنانے والے کی حکومت قائم ہے اور اس سانحہ میں متاثر ہونے والے افراد حکومت سے انصاف کی توقع کر رہے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت اس ملک کا سربراہ وہ شخص ہے جس نے میرے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹائون کے مظلوم شہیدوں کو انصاف دلوایا جائے گا ، وزیراعظم عمران خان انصاف دلوانے کا وعدہ کیا تھا ، اب ان کی مرکز میں بھی حکومت ہے اور پنجاب میں بھی لیکن وہ خاموش کیوں ہیں ایک بیان تک نہیں دیا ۔ ہم عدالتوں میں مسلسل قانونی جنگ لڑ رہے ہیں، 5 سال کی جدوجہد کے بعد آزادنہ تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل کروانے میں کامیاب ہوئے، اس میں ڈیڑھ سو سے زائد افراد بشمول نواز شریف، شہباز شریف اور رانا ثنا اللہ ریکارڈ کیے گئے اب صرف اس کی رپورٹ عدالت میں پیش ہونی تھی ، اور عین اس وقت اس جے آئی ٹی کو معطل کروادیا گیا، ہمیں تاریخیں نہیں ملتی بینچ تشکیل نہیں دیے جاتے ، اور یہ سب اس ملک میں ہورہا ہے جسے ریاست مدینہ کا نام دیا جاتا ہے۔ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ جب تک مظلوموں کا انصاف نہیں مل جاتا میں قصاص کیلئے کھڑا رہوں گا ، میں ان لوگوں کو داد دیتا ہوں جو ڈٹ کر کھڑ رہے ، نہ جھکے اور نہ ہی بکے ہیں ۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…