جمعرات‬‮ ، 11 جون‬‮ 2026 

“میرے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر سانحہ ماڈل ٹاؤن کے انصاف کا وعدہ کرنے والے حکمران خاموش کیوں ہیں؟ریاست مدینہ بنانے کا دعویٰ کرنے والے بھی تاحال سانحہ کے مظلوموں کو انصاف کیوں نہیں دلا سکے، طاہر القادری نے خاموشی توڑ دی

datetime 19  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)ریاست مدینہ بنانے کا دعویٰ کرنے والے تاحال ماڈل ٹائون سانحہ کے مظلوموں کو انصاف کیوں نہیں دلا سکے ۔ ویڈیو پیغام میں مہناج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ اسلام کے نام پر بنائے جانے والے ملک میں 6سال گزر جانے کے باوجود سانحہ ماڈل ٹائون کے مظلوم لوگوں کو انصاف کیوں نہیں دلایا جا سکا ۔ میرے شانہ بشانہ کھڑے ہر کر انصاف کا وعدہ کرنے والے

حکمران آج کیوں خاموش ہیں ۔ ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا تھا کہ پہلے اس ملک پر ایسے حکمرانوں کا کی حکومت تھی جنہوں نے رات کی تاریکی میں انسانوں کے خون کی ہولی کھیلی اور نہتے شہریوں کو گولیاں مار کر شہید کیا ہمیں ان حکمران کیخلاف انصاف چاہیے تھا ۔ آج ریاست مدینہ بنانے والے کی حکومت قائم ہے اور اس سانحہ میں متاثر ہونے والے افراد حکومت سے انصاف کی توقع کر رہے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت اس ملک کا سربراہ وہ شخص ہے جس نے میرے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹائون کے مظلوم شہیدوں کو انصاف دلوایا جائے گا ، وزیراعظم عمران خان انصاف دلوانے کا وعدہ کیا تھا ، اب ان کی مرکز میں بھی حکومت ہے اور پنجاب میں بھی لیکن وہ خاموش کیوں ہیں ایک بیان تک نہیں دیا ۔ ہم عدالتوں میں مسلسل قانونی جنگ لڑ رہے ہیں، 5 سال کی جدوجہد کے بعد آزادنہ تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل کروانے میں کامیاب ہوئے، اس میں ڈیڑھ سو سے زائد افراد بشمول نواز شریف، شہباز شریف اور رانا ثنا اللہ ریکارڈ کیے گئے اب صرف اس کی رپورٹ عدالت میں پیش ہونی تھی ، اور عین اس وقت اس جے آئی ٹی کو معطل کروادیا گیا، ہمیں تاریخیں نہیں ملتی بینچ تشکیل نہیں دیے جاتے ، اور یہ سب اس ملک میں ہورہا ہے جسے ریاست مدینہ کا نام دیا جاتا ہے۔ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ جب تک مظلوموں کا انصاف نہیں مل جاتا میں قصاص کیلئے کھڑا رہوں گا ، میں ان لوگوں کو داد دیتا ہوں جو ڈٹ کر کھڑ رہے ، نہ جھکے اور نہ ہی بکے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…