جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

جہاز کس کے کہنے پر لینڈ اور کس کے کہنے پر دوبارہ اڑایا گیا،رپورٹ کب پیش کی جائے گی، اعلان کر دیا گیا

datetime 28  مئی‬‮  2020 |

اسلام آباد (آن لائن) وفاقی وزیر شہری ہوا بازی غلام سرورخان نے کہا ہے کہ طیارہ حادثہ کی رپورٹ 22 جون کو کو پارلیمنٹ اور عوام کے سامنے لے آئیں گے، ہم تمام 12 واقعات کی رپورٹ سامنے لائیں گے۔ جو ذمہ دار ہوں گے ان کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، ابھی تک ڈی این اے کے بعد51 میتیں لواحقین کے حوالے کی جاچکی ہیں۔ وزیر شہری ہوا بازی غلام سرورخان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ

حکومت کوشش کر رہی ہے کہ جلد ازجلد میتیں لواحقین کے حوالے کی جائیں۔51 میتیں ڈی این اے کے بعد لواحقین کے حوالے کی جاچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے معاوضہ اور باقی انشورنس کمپنی دے گی۔ حادثے میں جن گھروں کو نقصان پہنچا انہیں بھی معاوضہ دیا جائیگا۔یہ معاوضہ قیمتی جانوں کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں حادثات کی رپورٹس بروقت نہیں آتیں جو قابل تشویش ہے۔ کم وقت میں صاف شفاف تحقیقات اور ساری معلومات عوام کے سامنے رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بننے کے بعد بارہ واقعات ہوئے، جن میں دس حادثات پی آئی اے کے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج تک ایسا کیوں نہیں ہوا کہ بروقت رپورٹ نہیں آئی؟ اس لیے ہم موجودہ حادثے کی ہی نہیں بلکہ تمام احادثات اور واقعات کی ذمہ داری لیتے ہیں۔ اگر پچھلی حکومتوں نے رپورٹس جاری نہیں کیں۔ تو ہم تمام 12 واقعات کی رپورٹ سامنے لائیں گے۔جو ذمہ دار ہوں گے ان کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ تمام شہداء کے لواحقین کو یقین دلاتاہوں بالکل صاف شفاف انکوائری ہوگی۔ انکوائری بورڈ نے ساری چیزیں اپنے قبضے میں لے لی ہیں۔ وائس اورڈیٹا دونوں ریکارڈنگ پر ہیں، ڈی کوڈنگ کے بعد حقائق سامنے آجائیں گے۔ اگر جہاز میں کوئی ٹیکنیکل خرابی ہوگی تو وہ بھی ریکارڈ میں ہوگی۔ انکوائری میں دیکھا جائے گا کہ پائلٹ نے جب طیارے کو اتار لیا تھا تو دیکھا جائے گا کہ کس نے طیارے کو لینڈنگ اور پھر کس نے دوبارہ اٹھانے کا کہا۔

اس لیے انکوائری بورڈ پر اعتبار کیا جائے۔ میں اپنے اداروں کی کارکردگی سیمطمئن ہوں۔ بورڈ کی تحقیقات کا انتظار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 2010ء میں بھی ایک طیارہ حادثہ ہوا تھا، اس پر تو کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔ ماضی میں طیارہ حادثے کی رپورٹ سامنے نہیں لائی گئیں۔ بدقسمتی سے ہر معاملے پر سیاست کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طیارے کی جگہ سے ملبہ نہیں ہٹایا گیا۔ ملبہ انکوائری بورڈ کی نگرانی میں اٹھایا جا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…