اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

سوتیلے باپ کے حکمرانوں نے بی ایم سی میں جعلی قرنطینہ سینٹر قائم کرکے عمران خان کو ماموں بنا دیا، دھماکہ خیز انکشافات

datetime 10  اپریل‬‮  2020 |

کوئٹہ(آن لائن)جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی ترجمان اور سابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ سوتیلے باپ کے حکمرانوں نے بی ایم سی میں جعلی قرنطینہ سینٹر قائم کرکے عمران خان کو ماموں بنا دیا،باپ کے ذریعے حکومت بننے والے حکمران عوام اور وفاق کو بے وقوف بنا رہے ہیں، حکمران عملی میدان میں ناکام ہوچکے اس لیے اب ڈرامے کررہی ہے، حکمران میڈیا، اخبارات، ٹیوٹر اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے سب کچھ اچھا ہونے کا تاثر دے رہے ہیں جبکہ زمینی حقائق اس سے مختلف ہیں۔

جمعہ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ حسین احمد نے مزید کہا کہ سوتیلے باپ کے حکمرانوں نے بولان میڈیکل کالج میں راتوں رات قرنطینہ مرکز قائم کرکے عمران خان نیازی کو ماموں بنایا جبکہ کورونا کے حوالے سے شیخ زید اسپتال اور فاطمہ جناح اسپتال میں انتظامات کئے گئے ہیں، انہوں نے کہا کہ گذشتہ انتخابات میں جس انداز میں باپ کے ذریعے حکومت بنائی گئی حکمران اسی انداز میں عوام اور وفاق کو بے قوف بنا رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ رات کی تاریکی میں مختلف اسپتالوں سے بیڈ اور سامان لاکر ملمع سازی کی گئی اور اگلے روز عمران خان کو اس کا معائنہ کرایا گیا، انہوں نے کہا کہ اسپتال انتظامیہ، ذرائع ابلاغ کے نمائندے اور بلوچستان کے مظلوم عوام سب اس بات کے گواہ ہیں کہ دن دھاڑے یہ واردات کی گئی، انہوں نے کہا کہ حکومتی ارکان سے استفسار پر بتایا جارہا ہے کہ امن امان کی مخدوش صورتحال کی وجہ سے یہ ڈرامہ کیا گیا جبکہ دوسری جانب صوبے میں امن امان کے حوالے سے سب کچھ اچھا ہے اورمکمل امن کی بات کی جاتی ہے، حافظ حسین احمد نے کہا کہ اس سے پہلے ینگ ڈاکٹرز کو حفاظتی کٹس اور دیگر چیزیں فراہم نہیں کی گئی جس کی وجہ سے کئی ڈاکٹر کورونا سے متاثر ہوئے اور جس پر انہوں نے احتجاج کیا تو ان کے ساتھ جو سلوک برتا گیا اور جس انداز میں پولیس نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اس پر کوئی نوٹس نہیں لیا گیا اور تشدد کرنے والوں کو کوئی قرار واقعی سزا نہیں مل سکی، انہوں نے کہا کہ اس تمام ڈرامے سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ حکمران میڈیا، ٹیوٹر اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے ہی سب کچھ اچھا ہونے کا تاثر دیتے ہیں لیکن زمینی حقائق سے ان تمام دعوں کی باربار قلعی کھل چکی ہے اور عوام سمجھتے ہیں کہ یہ زبانی جمع خرچ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے کی جارہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…