جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

لاک ڈائون کی وجہ سے پاکستان ریلوے کو ہر ہفتے کتنا بھاری نقصان ہو رہا ہے؟ لاک ڈائون ختم ہوتے ہی کیا کام کریں گے، شیخ رشید نے اہم اعلان کردیا

datetime 4  اپریل‬‮  2020 |

لاہور (نیوز ڈیسک) وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ کورونا کے باعث لاک ڈائون سے پاکستان ریلوے کو ہر ہفتے ایک ارب 20 کروڑ کا نقصان ہورہا ہے۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نے کہا کہ ہم حکومت کے فیصلے کے پابند ہیں لیکن لاک ڈائون ختم کیا تو 20 مسافر ٹرینیں چلائیں گے، ٹرینیں چلانے کے لیے لوگوں کا اصرار ہے اور مجبوریاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک ارب 20 کروڑ روپے کا ہر ہفتے نقصان ہورہا ہے،

15 تاریخ سے وزیراعظم کی اجازت سے ریلوے کی فریٹ شروع کریں گے، لاک ڈائون سے پہلے ہم نے ریکارڈ 20 ٹرینیں چلائی ہیں، ہم آخری 2 روز میں 40 ٹرینیں نہ چلاتے تو کراچی میں لوگ ایڑیاں رگڑ رہے ہوتے، ہم نے آخری 2 روز میں 40 ٹرینوں سے ایک لاکھ 65 ہزار مسافروں کو منتقل کیا، ریلوینے آخری 2 روز میں تاریخی کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریلوے کے پیشنرز اور تنخواہ داروں کو کوئی پریشانی نہیں ہوگی، ایک لاکھ 65 ہزار لوگوں کو ہم نے ریلوے سے گھروں کو بھیجا، ہمارے پاس 1670کولی ہیں، ان تمام کا ڈیٹا احساس پروگرام میں بھیجا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلو ے میں کوئی ملازم کورونا کا شکار نہیں ہوا جب کہ ہمارے ہاں دیگر ممالک کے مقابلے حالات بہت بہتر ہیں، 14 اپریل کو کورونا کی صورتحال واضح ہوجائے گی، اگر وائرس بڑھا تو 15 اپریل کو ٹرینیں نہیں چلائیں گے۔انہوں نے کہا کہ پہلی بار اتنے بڑے پیمانے پر فلاحی کام ہو رہا ہے، ناراض دوست کورونا سے لڑنے کیلئے متحد ہوجائیں،یہ وقت جنگ عظیم سے بھی سخت ہے، اس پر سیاست نہ کی جائے، لیپ ٹاپ کے آگے بیٹھ کر تنقید نہ کی جائے، سب اپنا اپنا حصہ ڈالیں، لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھ کر کیڑے نکالنے والوں کا وقت ختم ہوچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹرینوں کو حفاظتی اقدامات کے ساتھ چلائیں گے، کچھ عناصر ملک کو ترقی کرتا نہیں دیکھنا چاہتے، ٹائیگر فورس کے پاس کوئی اختیارات نہیں، صرف خدمت کا جذبہ ہے، مشیر خزانہ کا شکر گزار ہوں انہوں نے ملازمین کی تنخواہوں کا مسئلہ حل کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…