اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

لوگ اگر کرونا وائرس سے سے پھیلتی تباہی سے بچنا چاہتے تو وہ ذوالفقار علی بھٹو کے وژن کی پیروی کریں ، بلاول بھٹو نے عوام کو کرونا وائرس سے بچائو کا طریقہ بتا دیا

datetime 3  اپریل‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے زور دیا ہے کہ قوم کو کورونا وائرس کے بڑہتے ہوئے بحران کا مقابلہ کرنے اور اپنے لوگوں کو اس منڈلاتی ہوئی بربادی سے بچانے کے لیئے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے وژن کی پیروی کرنے کی ضرورت ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے 41 ویں یوم شہادت کے موقع پر جاری کردہ اپنے پیغام میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حقیقی رہنما قوموں کی

تقدیر بدل دیتے ہیں اور وہ بحرانوں کے دوران بڑے عزم اور ویژن کے ساتھ رہنمائی کرتے ہیں۔ پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ سقوط ڈھاکہ کے بعد، پاکستان کی ہزاروں میل زمین دشمن کے قبضے میں چلی گئی تھی اور ہمارے 90 ہزار فوجی جنگی قیدی بن چکے تھے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے نہ صرف ہماری سرزمین اور سپاہی واپس لئے، بلکہ ہمارے جوہری پروگرام کی بنیاد رکھ کر اس بات کو یقینی بنایا کہ پھر کبھی ہماری خودمختاری اڑوس پڑوس کے رحم و کرم پر نہ ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ آدھے سے زیادہ ملک گنوانے کے نتیجے میں ہونے والی معاشی تباہی سے نمٹنے کے لیئے پاکستان اسٹیل ملز، پورٹ قاسم، ہیوی میکینیکل کمپلیکس، پاکستان مشین ٹول فیکٹری وغیرہ جیسے بڑے معاشی و صنعتی منصوبے تشکیل دیئے گئے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اِس کڑے وقت میں پاکستان کے عوام ایک نئے ذوالفقار علی بھٹو کی تلاش میں ہیں، جو ہمیں آپسی اختلافات کے باوجود متحرک کرے اور ایک ایسا لیڈر جو ہمیں اس وبا سے نکالنے کے لئے روشنی کا مینار بن کر قیادت کرے۔ پی پی چیئرمین نے کہا کہ پاکستانی عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قربانی کو کبھی فراموش نہیں کریں گے جو انہوں نے اس عظیم قوم کے لئے دی تھی۔ بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور وہ تمام لوگ جو شہید ذوالفقارعلی بھٹو کے مساوات، یکساں مواقع اور قربانی کے پیغام پر یقین رکھتے ہیں، وہ کسی قسم کے بھی بحران میں پاکستانی عوام کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔ پی پی پی چیئرمین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنے اجداد کی میراث کو جاری رکھیں گے اور ہر قیمت پر اپنی عوام اور ان کے مفادات کا تحفظ کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…