جمعہ‬‮ ، 02 جنوری‬‮ 2026 

سعودی عرب میں پاکستانی قونصلیٹ کی جانب سے عمرہ زائرین کو اہم ہدایت جاری

datetime 13  مارچ‬‮  2020 |

جدہ(آن لائن ) سعودی حکومت کی جانب سے مملکت میں مقیم افراد کو 72 گھنٹوں کے اندر اندر اپنے اپنے وطن واپس جانے کا حکم سْنایا ہے، تاہم فلائٹس کے مسائل کی وجہ سے پاکستانی عمرہ زائرین بہت زیادہ پریشانی کا شکار ہیں۔ اس حوالے سے پاکستانی قونصل خانے نے عمرہ زائرین کی وطن واپسی یقینی بنانے کے لیے ایک کمیٹی قائم کر دی ہے جو ڈپٹی قونصل جنرل کی سربراہی میں کام کرے گی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے  پاکستانی قونصل جنرل خالد مجید نے کہا کہ سفری پابندیوں کے باعث پاکستان میں موجود اقامہ ہولڈرز کی مملکت واپسی کی راہ میں درپیش مشکلات سے نمٹنے کے لیے سعودی حکام سے بھی رابطہ کر لیا گیا ہے۔ قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ ہم عمرہ زائرین کی مدد کے لیے ہر وقت موجود ہیں۔قونصل جنرل نے بتایا کہ سعودی عرب کی جانب سے سفری پابندی کے بعد لگ بھگ 40 ہزار عمرہ زائرین یہاں موجود ہیں۔ان کی مدد کے لیے کارروائی کی جا رہی ہے۔ خالد مجید نے بتایا کہ پی آئی اے اور ایئر بلیو کے ذریعے 18 ہزار عمرہ زائرین سعودی عرب آئے جبکہ اتنی ہی تعداد میں زائرین خلیجی ممالک کی ایئرلائنز کے ذریعے پہنچے تھے۔خلیجی ایئرلائنز کی پروازیں اس وقت سعودی عرب کے لیے معطل ہیں۔ غیر ملکی ایئرلائنز سے آنے والے زائرین کے ٹکٹس کی ایڈجسٹمنٹ اور انہیں پی آئی اے اور ایئر بلیو کی فلائٹس میں روانہ کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ خالد مجید کا کہنا تھا کہ پی آئی اے اور ایئر بلیو کے کنٹری مینیجرز سے تفصیلی بات ہوچکی ہے اور پاکستان میں عمرہ ٹریول ایسوسی ایشن سے بھی رابطے میں ہیں۔ کوشش ہے کہ عمرہ زائرین بروقت اور خیریت سے واپس پاکستان پہنچ جائیں۔قونصل جنرل نے مزید کہا کہ ’قونصل خانے کی کمیٹی سعودی وزارت حج سے رابطہ کرکے یہ معلوم کر رہی ہے کہ مکہ اور مدینہ میں اس وقت کتنے پاکستانی زائرین موجود ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…