جمعرات‬‮ ، 18 جون‬‮ 2026 

’’ میں سب کے سامنے مانتی ہوں میں کنجر ہوں‘‘ بدنام زمانہ اداکارہ کا تعلق ”اس بازار“ سے تھا اور اس نے انٹرویو لینے والے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہ صرف اپنے بیک گراؤنڈ کا اعتراف کیاتھا بلکہ یہ بھی کہا تھا مجھے لوگوں نے اغواءکیا‘ مجھے سڑکوں پر گھسیٹا گیا‘ میرے بال کاٹ دیے گئے اور مجھے سرعام مارا گیا لیکن میں نے اپنا کام نہیں چھوڑا‘میری ٹنڈ کی گئی لیکن ۔۔۔تہلکہ انکشاف‎

datetime 13  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر کالم نگار جاوید چودھری نے اپنے کالم ’’مراثیوں کے لیے الگ قبرستان بنا دیں‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔۔میری امان اللہ مرحوم سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی لیکن یہ اس کے باوجود میرے بہت بڑے محسن ہیں‘ بیس برسوں میں کوئی ایک بھی دن ایسا نہیں گزرا جب میں نے ان کو یاد نہ کیا ہو اور ان کے لیے دعا نہ کی ہو‘ میں نے زندگی میں ہزاروں انٹرویوز دیکھے ہیں لیکن دو انٹرویوز دماغ کی

دیواروں کے ساتھ چپک کر رہ گئے ہیں‘ پہلا انٹرویو تھیٹر کی ایک بدنام زمانہ اداکارہ کا تھا‘ وہ خاتون ہیں لہٰذا میں ان کا نام نہیں لکھ رہا لیکن میں اس خاتون کے الفاظ ہزاروں لوگوں کو سنا چکا ہوں۔خاتون کا تعلق ”اس بازار“ سے تھا اور اس نے انٹرویو لینے والے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہ صرف اپنے بیک گراؤنڈ کا اعتراف کیاتھا بلکہ یہ بھی کہا تھا مجھے لوگوں نے اغواءکیا‘ مجھے سڑکوں پر گھسیٹا گیا‘ میرے بال کاٹ دیے گئے اور مجھے سرعام مارا گیا لیکن میں نے اپنا کام نہیں چھوڑا‘ میں ٹنڈ ہونے کے باوجود اگلے دن تھیٹر پہنچی اور میں نے سٹیج پر ڈانس کیا‘وہ خاتون بے باکی میں ایک قدم اور آگے بڑھ گئی اور اس نے کہا” لوگ مجھے کنجر کہتے ہیں اور میں سب کے سامنے مانتی ہوں میں کنجر ہوں‘ میں نے آج تک اپنے نام کے آگے پیچھے شاہ‘ چودھری‘ رضوی‘ خان یا قریشی نہیں لگایا‘ میں جو ہوں میں وہی ہوں“ میں نے جوں ہی یہ الفاظ سنے مجھے فوراً حضرت عیسیٰ ؑ کا واقعہ یاد آ گیا‘ آپؑ ڈوبتے ہوئے بچھو کو پانی سے نکالتے تھے اور وہ آپؑ کے ہاتھ پر ڈنک مار دیتا تھا‘ آپؑ تکلیف کی وجہ سے اسے چھوڑدیتے تھے‘ وہ دوبارہ پانی میں گر جاتا تھا‘ آپؑ اسے پھر نکالتے تھے اور وہ پھر ڈس لیتا تھا‘ حواری نے آپؑ سے کہا‘ یسوع مسیح آپؑ اسے اس کے حال پر کیوں نہیں چھوڑ دیتے‘ آپؑ نے فرمایا اگر یہ اپنی برائی نہیں چھوڑ رہا تو میں اپنی اچھائی کیوں چھوڑ دوں‘ میں نے خاتون کا انٹرویوسنا اور سوچا دنیا اگر اپنی بھرپور طاقت کے باوجود ناچنے والی کو ناچنے سے باز نہیں رکھ سکی‘

یہ ٹنڈ ہونے کے باوجود اگلے دن دوبارہ سٹیج پر پہنچ جاتی ہے تو پھر ہم لوگ اپنی اچھائی کیوں چھوڑ دیتے ہیں‘ ہم لوگوں کی تنقید‘ لوگوں کی مخالفت پر اپنا سچا اور کھرا موقف کیوں بدل لیتے ہیں۔ہم صرف لوگوں کو خوش کرنے کے لیے کبھی قاری اور کبھی رضوی کیوں بن جاتے ہیں اور ہم

”آپ بھی ٹھیک کہہ رہے ہیں اور ہاں آپ بھی درست فرما رہے ہیں“ کیوںکہتے ہیں؟ میں ہر دوسرے تیسرے دن اپنے سیشنز میں لوگوں کو یہ واقعہ سناتا ہوں اور عرض کرتا ہوں” اگر وہ برائی کو برائی سمجھنے کے باوجود برائی پر قائم رہی تو ہم سچائی کو سچائی سمجھتے ہوئے سچائی پر قائم کیوں نہ رہیں‘ ہم ناکامی کے بعد اگلے دن دوبارہ وہ کام شروع کیوں نہ کریں‘ ہم پیچھے کیوں ہٹیں؟“



کالم



فلم میں بھی ہارنے سے انکار


یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…