احتساب عدالت نے قومی احتساب بیورو کے دائرہ اختیار سے تجاوز پر فیصلہ سنا دیا

  منگل‬‮ 10 مارچ‬‮ 2020  |  7:34

لاہور( این این آئی )احتساب عدالت نے قومی احتساب بیورو کے دائرہ اختیار سے تجاوز پر فیصلہ سنا دیاعدالت نے گارمنٹس فراڈ میں گرفتار ملزم محمد حسن ارشد کو رہا کرنے کا حکم دیدیا۔احتساب عدالت کے جج امجد نذیر چوہدری نے فیصلہ سناتے ہوئے چیئرمین نیب اور ڈی جی نیب کو تنبیہ کا نوٹس بھی جاری کردیا۔ عدالت نے اپنے نوٹ میںلکھا کہ فیصلہ سناتے وقت بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہنیب نے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا، نیب نے خالصتاًایک سول معاملے کو کریمنل ایکٹ میں تبدیل کرنے کی کوشش کی،نیب اتھارٹی کو ہدایات دی جاتی ہیں


کہ وہ سول معاملات کو اپنے دائرہ اختیار میں نہلائیں ،اگر نیب نے ایسا کوئی معاملہ دوبارہ پیش کیا تو یہ عدالت سختی سے پیش آئے گی۔عدالت کے حکم نامے کی کاپی چیئرمین نیب اور ڈی جی نیب کو بھجوائی جائے۔ عدالت نے حکم دیا کہ ملزم کی رہائی کی روبکار قانون کے مطابق جاری کی جائے، کریمنل کورٹ کے بجائے اس کو سول کورٹ میں حل کیا جاسکتا ہے، ،اس کیس سے عدالت کا قیمتی وقت ضائع کرنے کی کوشش کی گئی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ریکارڈ کے مطابق یہ صاف اور شفاف ہے کہ یہ بزنس ٹرانزیکشن تھیں جو سول معاملات میں آتی ہیں، یہ نیب آرڈیننس کے مطابق کوئی کریمنل آفینس نہیں ہے، یہ ایک سول تنازعہ ہے جس میں معاہدے کیخلاف ورزی کی گئی۔ پراسیکیوشن نے موقف اپنایا کہ ،ملزم نے فراڈ اور دھوکہ دہی سے مختلف افراد سے کاروبار کے نام پر رقم اکھٹی کی، ملزم کیخلاف 39 افراد نے شکایت درج کروائیں اور سکروٹنی کے دوران 4 افراد نکالے گیے،  ملزم نے35 افراد سے  10 کروڑ 41 لاکھ اور ڈالرز پر مشتمل 8 لاکھ 60 ہزار 700 کا فراڈ کیا گیا۔‎


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

روکا روکی کا کھیل

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎