بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

مہنگائی کی وجہ سے عوام تڑپ رہے ہیں، حکومت ٹس سے مس نہیں ہورہی،عمران خان بتائے ڈالر کا ریٹ پچاس روپے کیسے بڑھا؟ اے این پی نے دھماکہ خیز سوالات پوچھ لئے

datetime 1  فروری‬‮  2020 |

پشاور(این این آئی)عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما حاجی غلام احمد بلور نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا بھی اس ملک کا حصہ ہے لیکن یہاں کے عوام کو انکا حق نہیں دیا جارہا ہے،یہاں کے وسائل پر مقامی افراد کا حق تسلیم نہیں کیا جارہا، پٹرول، گیس، بجلی اور پانی پورے ملک کو فراہم کیا جارہا ہے لیکن یہاں کی پیداوار اپنے صوبے میں دستیاب ہی نہیں۔

پنجاب کے خوشاب شہر کے حویلی عمر خان میں باچا خان اور ولی خان کی برسی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ اپنی ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کرنیوالے صوبے میں ناروا لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے جو کسی بھی صورت قبول نہیں۔مہنگائی کی وجہ سے عوام تڑپ رہے ہیں لیکن مسنداقتدار پر بیٹھے ٹس سے مس نہیں ہورہے۔ انہوں نے عمران خان سے مطالبہ کیا کہ وہ بتائے کہ ڈالر کا ریٹ انکے دور حکومت میں کیسے پچاس روپے بڑھ گیا ہے۔ پٹرول کی قیمتیں کیوں بڑھیں؟مہنگائی کیوں ہورہی ہے؟ کیا حکومت وقت اس کی تحقیقات کرکے عوام کے سامنے سچ بولنے کی ہمت کرسکتے ہیں۔ ہمیں انتخابات سے پہلے کی قیمتیں واپس چاہیے اور اگر نہیں دے سکتے تو اپنی شکست تسلیم کی جائے۔ اے این پی رہنما کا کہنا تھا کہ عمران خان اور انکی ٹیم انتخابات سے پہلے دعوے کرتے تھے کہ ملک میں روزانہ اربوں روپے کی کرپشن ہورہی ہے لیکن آج یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اب وہ پیسہ کہاں اور کن کی جیبوں میں جارہا ہے؟ تبدیلی سرکار مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے ہمیں 2018ء والا پاکستان چاہیے۔ عمران خان کی ٹیم ایک نااہل ٹیم ہے، عمران ایک لیڈر نہیں بلکہ ایک کٹھ پتلی ہے جسکی کوئی سیاسی جدوجہد نہیں، وہ اس نظام کی خاطر ایک دن بھی جیل نہیں گئے۔ حاجی غلام احمد بلور کا کہنا تھا کہ اس ملک کی آزادی کی جنگ صرف سیاستدانوں نے لڑی ہے جنہیں ایک سازش کے تحت آج چور اور ڈاکو قرار دیا جارہا ہے۔

افغان جنگ بارے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب خان عبدالولی خان نے اس جنگ کو فساد کہا تو ان پر طرح طرح کے الزامات اور فتوے لگائے گئے لیکن آج ہر کوئی اس بات کو تسلیم کررہا ہے کہ روس اور امریکا کی جنگ کا حصہ بننا بڑی غلطی تھی جس کی وجہ سے اس خطے میں آگ بھڑک اٹھی۔ اس وقت افغان جنگ کو جہاد کہنے والے خود اسے آج فساد کہہ رہے ہیں لیکن جب ہمارے اکابرین یہ کہتے تھے تو انہیں غدار قرار دیا جاتا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…