اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

گھر، ہوٹل اور قیمتی پلاٹوں پر؟اپنے ہی پرائے نکلے، واپڈا کے سابق انجینئر کی بیٹی کا والدہ، بھائی اور بہنوں پر فراڈ اور جعلسازی کا الزام

datetime 27  جنوری‬‮  2020 |

بدین (این این آئی)واپڈا کے سابق انجینئر مرحوم سید انوار سراج ہاشمی کی بڑی بیٹی کا والدہ بھائی اور بہنوں پر فراڈ اور جعلسازی سے گھر ہوٹل اور قیمتی پلاٹوں کے سرکاری ریکارڈ میں تبدیلی کر کے قبضہ کا الزام. بدین کی رہائشی سیدہ افشاں ہاشمی نے بدین پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والد مرحوم انجینئر انور سراج ہاشمی جو واپڈا واٹر ونگ میں انجینئر تھے

ان کی بدین میں مہران چوک حیدرٹاؤن کے علاوہ کراچی حیدراباد میں واپڈا کی رہائشی اسکیموں میں قیمتی پلاٹ گھر اور ہوٹل کی جائیدادیں تھیں میری والدہ کے علاوہ میرے پانچ بھائی اور چھ بہنیں ہیں میرے علاوہ سب بدین میں رہتے تھے شادی کی وجہ سے مجھے کراچی منتقل ہونا پڑا دس سال قبل میرے والد کی وفات کے بعد میری والدہ بھائی بہنوں نے مجھے بتائے اور بغیر اطلاع محکمہ رونیو کے افسران اور اہلکاروں سے مل کر میرے والد کی تمام جائیداتوں کی فراڈ اور جعلسازی سے سرکاری ریکارڈ میں ہیراپھیری کر کہ اپس میں تقسیم کر لیا جبکہ مجھے شرعی اور قانونی حصہ اور وراثت سے محروم رکھا جب مجھے اس بات کی خبر ہوئی تو میں نے اپنا شرعی اور قانونی حصہ مانگا تو نہ صرف مجھے جواب دے دیا گیا بلکہ کہا کہ آئندہ اس بات کا زکر بھی کرنا نہیں اچھا نہیں ہو گا انصاف کی بجائے دھمکیاں دی جا رہی ہیں. افشان ہاشمی نے کہا والد مرحوم کا وراثتی حصہ ہونے کے باوجود میں انصاف کے لئے دربدر ہوں مالی مسائل اور مشکلات کا شکار ہوں. افشان ہاشمی نے چیف جسٹس آف پاکستان چیف جسٹس سندھ وزیرعالی سندھ گورنر سندھ چیف سیکٹریری سندھ ڈی سی بدین کے علاوہ اراکین اسمبلی خواتین اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے والد مرحوم کا فوتی کھاتا بحال کر تمام جائیدات کی شرعی اور قانونی وراثت کو یقینی بنانے میں مدد کی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…