آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے الیکٹرانک وار فیئر لیبارٹری اور گراؤنڈ سرویلنس ریڈار ٹیسٹنگ لیبارٹریز کا افتتاح کر دیا، جاپانی عہدیدار سے بھی انتہائی اہم ملاقات

  جمعہ‬‮ 24 جنوری‬‮ 2020  |  22:35

راولپنڈی (این این آئی)چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نیشنل ریڈیو ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن ہری پور کا دورہ کر کے سٹیٹ آف دی آرٹ الیکٹرانک وار فیئر لیبارٹری اور گراؤنڈ سرویلنس ریڈار ٹیسٹنگ لیبارٹریز کا افتتاح کیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق نیشنل ریڈیو ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (این آر ٹی سی) مسلح افواج کے لیے الیکٹرانک وار فیئر آلات تیار کرتا ہے۔این آر ٹی سی الیکٹرانک آلات بنانے کا بہترین ادارہ ہے۔ اس کے علاوہ اس میں اعلیٰ قسم کے گراؤنڈ سرویلنس ریڈار بھی تیار کیے جاتے ہیں۔ آرمی چیف


جنرل قمر جاوید باجوہ کو این آر ٹی سی میں تیار عالمی معیار کے آلات سے آگاہ کیا گیا۔ اس موقع پر سربراہ پاک فوج نے این آر ٹی سی کی 3 سالہ کارکردگی کی تعریف کی اور اس کی جدت پسندی کیلئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ دوسری جانب چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے جاپانی وزارت خارجہ کے سینئر ڈپٹی وزیر کاناسوجی کنجی سے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور، مجوعی علاقائی صورتحال اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق جاپانی وزارت خارجہ کے سینئر ڈپٹی وزیر کاناسوجی کنجی نے جی ایچ کیو راولپنڈی میں پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی۔ معزز مہمان نے خطہ میں تنازعہ کے حل کیلئے پاکستان کے کردار کو سراہا اور دونوں ممالک کے مابین بہتر تعلقات کیلئے کام کرنے کا عہد کیا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

قاسم پاشا کی گلیوں میں

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎