جمعرات‬‮ ، 21 مئی‬‮‬‮ 2026 

یہ الفاظ کسی اور سے نہ کہیے گا ، پوری دنیا کے سامنے مذاق بن جائے گا اسحاق ڈار مشترکہ حکومت کے وزیر خزانہ بنے تو آصف زرداری نے

datetime 24  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر کالم نگار جاوید چوہدری اپنے کالم ’’وہ لوگ وزیراعظم کے ساتھ بیٹھے ہیں‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔مجھے یہ واقعہ اسحاق ڈار نے سنایا تھا‘ آپ کو یاد ہو گا پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن نے 2008ءمیں مشترکہ حکومت بنائی تھی‘ اسحاق ڈار اس مشترکہ حکومت میں بھی وزیر خزانہ تھے‘ وزارتوں کا فیصلہ ہو گیا‘ اسحاق ڈار فائنل ڈائیلاگ کے لیے زرداری ہاؤس چلے گئے‘

یہ میٹنگ کے بعد رخصت ہونے لگے تو آصف علی زرداری نے بلا لیا‘ ان کے پاس اس وقت ایک اجنبی شخص بیٹھا تھا‘ زرداری صاحب نے اسحاق ڈار کو پنجابی میں کہا‘ حکومت اس سال گندم 625 روپے من کی بجائے 900 روپے من خریدے گی‘ آپ وزارت سنبھالنے کے بعد یہ آرڈر جاری کر دیجیے گا۔ڈار صاحب نے پریشانی کے عالم میں اجنبی کی طرف دیکھا‘ زرداری صاحب بولے ”آپ نہ گھبرائیں‘یہ ہمارے دوست ہیں‘ لال جی‘ یہ پاکستان میں گندم کے سب سے بڑے بروکر ہیں“ ڈار صاحب گھبرا گئے اور آہستہ سے بولے ”لیکن سر ہم 900 روپے من گندم خرید کر ملوں کو کتنے میں فروخت کریں گے“ زرداری صاحب نے جواب دیا ”625 روپے میں‘ عام لوگوں کو گندم سستی ملنی چاہیے“ ڈار صاحب نے مسکرا کر جواب دیا ”سر لیکن حکومت 275 روپے کا نقصان کہاں سے برداشت کرے گی“ زرداری صاحب نے ہنس کر جواب دیا ”ہم سبسڈی دیں گے اور یہ رقم اضافی نوٹ چھاپ کر پوری کر لیں گے“ ڈار صاحب نے کہا ”سر آپ یہ مجھے کہہ رہے ہیں‘ ٹھیک ہے لیکن کسی اور کو نہ کہیے گا‘ ہم پوری دنیا میں مذاق بن جائیں گے‘ اضافی نوٹ چھاپنے کا مطلب ہوتا ہے ہم ملک کو آگ لگا دیں“اسحاق ڈار ڈیڑھ ماہ مشترکہ حکومت کے وزیر خزانہ رہے‘ یہ اس دوران گندم کی قیمت پر ڈٹے رہے ‘ مئی 2008ءمیں وفاق میں مشترکہ حکومت ختم ہوگئی جس کے بعد وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے 29ستمبر2008ءکو گندم کی قیمت بڑھا کر 950روپے من کر دی اور یوں ایک رات میں لال جی نے اربوں روپے کی دیہاڑی لگالی اور ملک اور لوگ دونوں کے لیے دن گزارنا مشکل ہو گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…