جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

یہ الفاظ کسی اور سے نہ کہیے گا ، پوری دنیا کے سامنے مذاق بن جائے گا اسحاق ڈار مشترکہ حکومت کے وزیر خزانہ بنے تو آصف زرداری نے

datetime 24  جنوری‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر کالم نگار جاوید چوہدری اپنے کالم ’’وہ لوگ وزیراعظم کے ساتھ بیٹھے ہیں‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔مجھے یہ واقعہ اسحاق ڈار نے سنایا تھا‘ آپ کو یاد ہو گا پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن نے 2008ءمیں مشترکہ حکومت بنائی تھی‘ اسحاق ڈار اس مشترکہ حکومت میں بھی وزیر خزانہ تھے‘ وزارتوں کا فیصلہ ہو گیا‘ اسحاق ڈار فائنل ڈائیلاگ کے لیے زرداری ہاؤس چلے گئے‘

یہ میٹنگ کے بعد رخصت ہونے لگے تو آصف علی زرداری نے بلا لیا‘ ان کے پاس اس وقت ایک اجنبی شخص بیٹھا تھا‘ زرداری صاحب نے اسحاق ڈار کو پنجابی میں کہا‘ حکومت اس سال گندم 625 روپے من کی بجائے 900 روپے من خریدے گی‘ آپ وزارت سنبھالنے کے بعد یہ آرڈر جاری کر دیجیے گا۔ڈار صاحب نے پریشانی کے عالم میں اجنبی کی طرف دیکھا‘ زرداری صاحب بولے ”آپ نہ گھبرائیں‘یہ ہمارے دوست ہیں‘ لال جی‘ یہ پاکستان میں گندم کے سب سے بڑے بروکر ہیں“ ڈار صاحب گھبرا گئے اور آہستہ سے بولے ”لیکن سر ہم 900 روپے من گندم خرید کر ملوں کو کتنے میں فروخت کریں گے“ زرداری صاحب نے جواب دیا ”625 روپے میں‘ عام لوگوں کو گندم سستی ملنی چاہیے“ ڈار صاحب نے مسکرا کر جواب دیا ”سر لیکن حکومت 275 روپے کا نقصان کہاں سے برداشت کرے گی“ زرداری صاحب نے ہنس کر جواب دیا ”ہم سبسڈی دیں گے اور یہ رقم اضافی نوٹ چھاپ کر پوری کر لیں گے“ ڈار صاحب نے کہا ”سر آپ یہ مجھے کہہ رہے ہیں‘ ٹھیک ہے لیکن کسی اور کو نہ کہیے گا‘ ہم پوری دنیا میں مذاق بن جائیں گے‘ اضافی نوٹ چھاپنے کا مطلب ہوتا ہے ہم ملک کو آگ لگا دیں“اسحاق ڈار ڈیڑھ ماہ مشترکہ حکومت کے وزیر خزانہ رہے‘ یہ اس دوران گندم کی قیمت پر ڈٹے رہے ‘ مئی 2008ءمیں وفاق میں مشترکہ حکومت ختم ہوگئی جس کے بعد وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے 29ستمبر2008ءکو گندم کی قیمت بڑھا کر 950روپے من کر دی اور یوں ایک رات میں لال جی نے اربوں روپے کی دیہاڑی لگالی اور ملک اور لوگ دونوں کے لیے دن گزارنا مشکل ہو گیا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…