اتوار‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2025 

ہم یہاں کہانیاں سننے نہیں بیٹھے،سرکار کا نقصان ہوا آپکو پرواہ ہی نہیں، چیف جسٹس گلزار احمد ایف بی آر پر شدید برہم

datetime 8  جنوری‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی) سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایف بی آر کو 15 دن میں غیرقانونی ٹیکس ری فنڈز کی تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دیدیا۔چیف جسٹس گلزار احمد نے قائمقام ایف بی آر نوشین جاوید کی سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہاں کہانیاں سننے نہیں بیٹھے، تین ماہ کی عدالتی مہلت میں تحقیقات مکمل کیوں نہیں ہوئیں؟ اربوں روپے لْٹ گئے ہیں، سرکار کا نقصان ہوا آپکو پرواہ ہی نہیں۔

سپریم کورٹ میں غیرقانونی ٹیکس ری فنڈ کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ نے کی۔ دور ان سماعت ایف بی آر کی قائمقام چیئرپرسن نوشین جاوید امجد عدالت میں پیش ہوئیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ عدالت نے ٹیکس ری فنڈ میں بے قاعدگیوں کی انکوائری کا حکم دیا تھا۔ نوشین جاوید نے کہاکہ وزیراعظم آفس سے منظوری کے بعد انکوائری شروع ہوچکی۔ چیف جسٹس نے قائمقام ایف بی آر نوشین جاوید کی سخت سرزنش کرتے ہوئے کہاکہ بی بی ہم یہاں کہانیاں سننے نہیں بیٹھے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ تین ماہ کی عدالتی مہلت میں تحقیقات مکمل کیوں نہیں ہوئیں؟ اربوں روپے لْٹ گئے ہیں، سرکار کا نقصان ہوا آپکو پرواہ ہی نہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو پرواہ نہیں تو اپنا عہدہ چھوڑ دیں۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ایف بی آر دیگر کاموں میں مصروف ہے عدالتی احکامات پر توجہ نہیں، چیئرپرسن صاحبہ رقم آپکی جیب سے گئی ہوتی تو آپ ایک منٹ بھی گھر نہ بیٹھتی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ قوم کے پیسے سے کسی کو ہمدردی نہیں، اب ایسا نہیں ہوگا، چیئرمین ایف بی آر بھی چھٹی پر چلے گئے۔ قائمقام چیئر پرسن ایف بی آر نے کہاکہ شبرزیدی بیمار ہوکر ہسپتال میں داخل ہیں چیف جسٹس نے کہاکہ شبر زیدی کیوں اور کتنے بیمار ہیں سب معلوم ہے۔ عدالت نے ایف بی آر کو 15 دن میں غیرقانونی ٹیکس ری فنڈز کی تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔ بعد ازاں مزید سماعت دو ہفتے کیلئے ملتوی کر دی گئی۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…