جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

ہم یہاں کہانیاں سننے نہیں بیٹھے،سرکار کا نقصان ہوا آپکو پرواہ ہی نہیں، چیف جسٹس گلزار احمد ایف بی آر پر شدید برہم

datetime 8  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایف بی آر کو 15 دن میں غیرقانونی ٹیکس ری فنڈز کی تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دیدیا۔چیف جسٹس گلزار احمد نے قائمقام ایف بی آر نوشین جاوید کی سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہاں کہانیاں سننے نہیں بیٹھے، تین ماہ کی عدالتی مہلت میں تحقیقات مکمل کیوں نہیں ہوئیں؟ اربوں روپے لْٹ گئے ہیں، سرکار کا نقصان ہوا آپکو پرواہ ہی نہیں۔

سپریم کورٹ میں غیرقانونی ٹیکس ری فنڈ کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ نے کی۔ دور ان سماعت ایف بی آر کی قائمقام چیئرپرسن نوشین جاوید امجد عدالت میں پیش ہوئیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ عدالت نے ٹیکس ری فنڈ میں بے قاعدگیوں کی انکوائری کا حکم دیا تھا۔ نوشین جاوید نے کہاکہ وزیراعظم آفس سے منظوری کے بعد انکوائری شروع ہوچکی۔ چیف جسٹس نے قائمقام ایف بی آر نوشین جاوید کی سخت سرزنش کرتے ہوئے کہاکہ بی بی ہم یہاں کہانیاں سننے نہیں بیٹھے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ تین ماہ کی عدالتی مہلت میں تحقیقات مکمل کیوں نہیں ہوئیں؟ اربوں روپے لْٹ گئے ہیں، سرکار کا نقصان ہوا آپکو پرواہ ہی نہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو پرواہ نہیں تو اپنا عہدہ چھوڑ دیں۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ایف بی آر دیگر کاموں میں مصروف ہے عدالتی احکامات پر توجہ نہیں، چیئرپرسن صاحبہ رقم آپکی جیب سے گئی ہوتی تو آپ ایک منٹ بھی گھر نہ بیٹھتی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ قوم کے پیسے سے کسی کو ہمدردی نہیں، اب ایسا نہیں ہوگا، چیئرمین ایف بی آر بھی چھٹی پر چلے گئے۔ قائمقام چیئر پرسن ایف بی آر نے کہاکہ شبرزیدی بیمار ہوکر ہسپتال میں داخل ہیں چیف جسٹس نے کہاکہ شبر زیدی کیوں اور کتنے بیمار ہیں سب معلوم ہے۔ عدالت نے ایف بی آر کو 15 دن میں غیرقانونی ٹیکس ری فنڈز کی تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔ بعد ازاں مزید سماعت دو ہفتے کیلئے ملتوی کر دی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…