جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

مولانا فضل الرحمن کا آرمی ایکٹ ترمیمی بل سے لاتعلقی کا اظہارکر دیا، ن لیگ کو فون پر کیا پیغام دیا تھا؟ اسمبلی کو قانون سازی کا حق نہیں دے سکتے، مولانا فضل الرحمان کی دھماکہ خیز باتیں

datetime 3  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد(این این آئی) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل سے لاتعلقی کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ عوام کا مینڈیٹ چوری کرکے بنائی اسمبلی کو قانون سازی کا حق نہیں دے سکتے،فوج ہمارا دفاعی ادارہ ہے، فوج کے سربراہ غیر متنازع ہیں انہیں متنازع نہیں بنانا چاہتے،

ن لیگ کو فون پر پیغام دیا تھا سب کو اکٹھا کیا جائے مگر ایسا نہیں ہوا۔ جمعہ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ پارلیمنٹ میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے بل لایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ عوام کا مینڈیٹ چوری کرکے بنائی اسمبلی کو قانون سازی کا حق نہیں دے سکتے۔ انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ نے سقم دور کرنے کیلئے کہا تھا یہ مزید سقم پیدا کر رہے ہیں،جہاں عدالتی فیصلوں کو تحلیل کرنا ہو وہاں قانون سازی نہیں آئینی ترمیم کی ضرورت ہوتی ہے،جو ایسی بات کرے اسے اغواء کر لیا جاتا ہے اور ادارے بعد میں اغواء کو تسلیم بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ فوج ہمارا دفاعی ادارہ ہے، فوج کے سربراہ غیر متنازع ہیں انہیں متنازع نہیں بنانا چاہتے۔انہوں نے کہاکہ حکومتی اقدامات فوج کے ادارے اور قیادت کو متنازع بنا رہے ہیں، آرمی چیف کے حوالے سے قانون سازی سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بہت عجلت میں سب کچھ کیا جا رہا ہے،پارلیمنٹ میں ن لیگ کا فرض تھا کہ پہلے تمام اپوزیشن کو اکٹھا کیا جائے،ن لیگ کو کل فون پر پیغام دیا تھا سب کو اکٹھا کیا جائے لیکن ایسا نہیں ہوا، ووٹنگ کا حصہ بننے یا نہ بننے کا فیصلہ پارلیمانی پارٹی کرے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…