ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

مولانا فضل الرحمن کا آرمی ایکٹ ترمیمی بل سے لاتعلقی کا اظہارکر دیا، ن لیگ کو فون پر کیا پیغام دیا تھا؟ اسمبلی کو قانون سازی کا حق نہیں دے سکتے، مولانا فضل الرحمان کی دھماکہ خیز باتیں

datetime 3  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد(این این آئی) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل سے لاتعلقی کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ عوام کا مینڈیٹ چوری کرکے بنائی اسمبلی کو قانون سازی کا حق نہیں دے سکتے،فوج ہمارا دفاعی ادارہ ہے، فوج کے سربراہ غیر متنازع ہیں انہیں متنازع نہیں بنانا چاہتے،

ن لیگ کو فون پر پیغام دیا تھا سب کو اکٹھا کیا جائے مگر ایسا نہیں ہوا۔ جمعہ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ پارلیمنٹ میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے بل لایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ عوام کا مینڈیٹ چوری کرکے بنائی اسمبلی کو قانون سازی کا حق نہیں دے سکتے۔ انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ نے سقم دور کرنے کیلئے کہا تھا یہ مزید سقم پیدا کر رہے ہیں،جہاں عدالتی فیصلوں کو تحلیل کرنا ہو وہاں قانون سازی نہیں آئینی ترمیم کی ضرورت ہوتی ہے،جو ایسی بات کرے اسے اغواء کر لیا جاتا ہے اور ادارے بعد میں اغواء کو تسلیم بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ فوج ہمارا دفاعی ادارہ ہے، فوج کے سربراہ غیر متنازع ہیں انہیں متنازع نہیں بنانا چاہتے۔انہوں نے کہاکہ حکومتی اقدامات فوج کے ادارے اور قیادت کو متنازع بنا رہے ہیں، آرمی چیف کے حوالے سے قانون سازی سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بہت عجلت میں سب کچھ کیا جا رہا ہے،پارلیمنٹ میں ن لیگ کا فرض تھا کہ پہلے تمام اپوزیشن کو اکٹھا کیا جائے،ن لیگ کو کل فون پر پیغام دیا تھا سب کو اکٹھا کیا جائے لیکن ایسا نہیں ہوا، ووٹنگ کا حصہ بننے یا نہ بننے کا فیصلہ پارلیمانی پارٹی کرے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…