اسلام آباد (این این آئی) سینیٹ میں اپوزیشن نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو مسترد کر دیا ہے۔ بد ھ کو سینیٹ اجلاس کی صدارت چیئرمین صادق سنجرانی نے کی۔اپوزیشن کے اراکین قائد حزب اختلاف راجہ ظفرالحق،رضا ربانی،راجہ ظفر الحق اور دیگر اراکین نے پارلیمنٹ اجلاس تاخیر سے بلانے پر ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ اتنے عرصے تک پارلیمنٹ کو بند رکھنا اور سینٹ کو تالے لگانا درست نہیں۔
پارلیمنٹ کا ایک عرصیاجلاس نا ہونا آئینی بحران کا باعث ہو سکتا ہے۔اپوزیشن اراکین نے کہا کہ سال کے پہلے دن عوام پر پٹرول بم گرایا گیا اور اس فیصلے سے مہنگاء میں مزید اضافہ ہو گا اور عام آدمی پر بوجھ بڑھے گا۔نیب ترمیمی آرڈیننس پر بھی اپوزیشن نے تنقید کی اور کہا کہ یہ قانون سازی پارلیمنٹ میں ہونی چاہیے۔ سینیٹر شیری رحمن نے کہاکہ گزشتہ شام بزریعہ ٹی وی پتہ چلا کہ اجلاس بلایا گیا،سندھ اور بلوچستان کے ممبران آج اجلاس میں نہیں پہنچ سکے۔انہوں نے کہاکہ حکومت چاہتی ہے کہ کم کورم میں جوچاہیے کریں،حکومتی نااہلی اتنی عروج پر ہے کہ چیزیں سنبھال نہیں سکتے۔ انہوں نے کہاکہ جب عجلت میں اجلاس بلائے جاتے ہیں تو اسکے پیچھے لمبی کہانیاں ہوتی ہیں،جب انکی کان پٹی پر پسٹل رکھی جاتی ہے تو دڑھا دھڑ اجلاس بلائے جاتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ آرڈیننس ہم اور ن لیگ بھی لائے مگر قانون کی شکل دی،ملکی حکمرانی بنی گالہ سے نہیں چل سکتی۔ انہوں نے کہاکہ چارچار نوٹیفکیشن پیش کئے جاتے ہیں عدالت کہتی ہے کہ پارلیمان کے پاس جائیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت فیصلے کے خلاف رویو میں چلی گئی،حکومت فیصلے ذمہ دارنہ کریں،راتوں رات اجلاس نہ بلائے،جو انہیں لائے وہ بھی ان سے تنگ ہیں کیونکہ پارلیمان سے بندھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت ساتھ چلنے کے ساتھ ساتھ چور ڈاکو والی باتیں کرتے ہیں،گزشتہ سال کوناکامیوں کا سال کہا جائے گا،کیونکہ ایک تقریر کے سواکچھ نہیں۔
انہوں نے کہاکہ پچاس دن رہ گئے ہیں پارلیمانی سال پورا ہونے میں، ایسا ملکی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھا،عجلت میں سینٹ اجلاس بلانے کی دو وجوہات ہیں،ایک یہ کہ سینیٹرز شرکت نہ کر سکیں اور دوسری یہ کہ یہ ایوان اور بدحال ہو۔انہوں نے کہاکہ جب بل پاس کرانے ہوتے ہیں تو فوری اجلاس بلالیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ سال ناامیدوں کے سال کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جو عرب ممالک ہمارے دوست تھے انھوں نے اپنا جہاز واپس لے لیا۔شیری رحمن نے کہاکہ ایک بیوقوف حکومت ملک چلارہی ہے،
حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ کو مس یوز کیا گیا ہے،حکومت روئیے سے دکھائے کہ تبدیلی آئی ہے،وقفہ سوالات نہیں چھپ سکا اجلاس بلانے کی اتنی جلدی تھی۔ سینیٹر مشتاق احمد نے کہاکہ موجودہ حکومت نے ایوان صدر کو آرڈننس فیکٹری اور پارلیمنٹ کو آرڈیننس ڈپو بنادیا گیا،کوالالمپور سمٹ میں ناجاکر ہم نے واضح کیاکہ پالیسی کا سمت تعین ڈالر کرتاہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے خام مال درآمد کم کی جس سے کارخانے بند ہورہے ہیں،ایف بی آر کو سو ارب سے زیادہ شارٹ فال کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کیا 2020میں قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی واپس آئینگی؟بعد ازاں سینیٹ کا اجلاس جمعرات کو ساڑھے تین بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔



















































