جمعرات‬‮ ، 11 جون‬‮ 2026 

حکومت اداروں کے تناؤ او ر سیاسی دھند کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہے،حکومت خاموشی سے کیاکام کر رہی ہے؟ سراج الحق نے دھماکہ خیز دعویٰ کردیا

datetime 30  دسمبر‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی)امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ 2019 ء کاآخری سورج حکومت کی ناکامیوں، یوٹرن اور عوام کی بے بسی کے ساتھ غروب ہورہاہے، مہنگائی اور کرپشن بڑا مسئلہ، عوام کے حقوق کے لیے حکومت کا تعاقب کریں گے، 2019 ء مہنگائی کے حوالے سے بدترین سال رہا، حکومت نے پٹرو ل بم گرانے کا ریکارڈ قا ئم کیا، ایک سال میں پٹرول کی قیمت میں 23 روپے دو پیسے کا اضافہ ہونا پی ٹی آئی کے وعدوں کی قلعی کھولتاہے،

ڈالر کی اونچی اڑان اور روپے کی بے قدری بھی حکومت کی معاشی پالیسیوں کی ناکامی کا ثبو ت ہے، معیشت کے تمام اعشاریے حکومتی وعدوں کی طرح منفی رہے، چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے آٹھواں اجلاس بھی آج بے نتیجہ ختم ہوگیاہے،حکومت اداروں کے تناؤ او ر سیاسی دھند کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہے، نیب آرڈی نینس کے ذریعے وزیراعظم اپنے دوستوں کو بچانا اور مخالفین کو پھنسانا چاہتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکومت نے خاموش این آر او شروع کررکھاہے اور چور مچائے شور کے مصداق آئے روز این آر او نہ دینے کے دعوے کرتی رہتی ہے۔ جب تک حکومت میں بیٹھے لوگ خود کو احتساب کے لیے پیش نہیں کرتے، احتساب ادھورا رہے گا۔ انہوں نے کہاکہ سابقہ حکومتوں کے نااہل لوگوں کو موجودہ حکومت میں جمع کردیا گیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنے اندر احتساب کا نظام وضع کریں اور کرپٹ افراد کو اہم ذمہ داریاں دینے کی بجائے احتساب کے کٹہرے میں لے کر آئیں۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ خوش فہمیاں اپنی جگہ لیکن ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھروں کا وعدہ خام خیالی کے سواکچھ بھی نہیں۔ پندرہ ماہ میں حکومت اپنی معاشی پالیسی کی ڈائریکشن کا تعین نہیں کر سکی۔ مہنگائی اور بے روزگاری نے معیشت کا پہیہ الٹا گھما دیاہے۔ غریب کا چولہا ٹھنڈا ہو گیاہے۔ موجودہ حکومت نے سب سے زیادہ نوجوانوں کو مایوس کیاہے۔

نوجوانوں نے پی ٹی آئی کا ساتھ اس لیے دیا تھاکہ انہیں روزگار ملے گا مگر حکومت کی نااہلی کی وجہ سے لاکھوں لوگ بے روزگار ہوچکے ہیں۔ آئی ایم ایف نے معیشت میں بہتری کے تمام حکومتی دعوؤں کا پول کھول دیاہے۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق ملکی معیشت آنے والے سالوں میں بھی اسی طرح بدحالی کا شکار ہے گی اور عوام کو ریلیف ملنے کی کوئی امید نہیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے پندرہ ماہ میں بیرونی قرضوں میں 35فیصد اضافہ کر کے سابقہ حکومتوں کا بھی ریکارڈ توڑدیاہے۔ آج پھر گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی سمری بھیجنے کی بات کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ شوگر ملز مالکان کسانوں کا استحصال کر رہے ہیں۔ شوگر ملوں نے گنے کی خریداری روک دی ہے جس سے گنے کے کاشتکارسخت پریشان ہیں۔زرعی ملک میں زراعت کا نگران اپنے جائز حقوق کے لیے سخت سردی کے باوجو د سڑکوں پر آنے پر مجبور ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…