ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

حکومت اداروں کے تناؤ او ر سیاسی دھند کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہے،حکومت خاموشی سے کیاکام کر رہی ہے؟ سراج الحق نے دھماکہ خیز دعویٰ کردیا

datetime 30  دسمبر‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی)امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ 2019 ء کاآخری سورج حکومت کی ناکامیوں، یوٹرن اور عوام کی بے بسی کے ساتھ غروب ہورہاہے، مہنگائی اور کرپشن بڑا مسئلہ، عوام کے حقوق کے لیے حکومت کا تعاقب کریں گے، 2019 ء مہنگائی کے حوالے سے بدترین سال رہا، حکومت نے پٹرو ل بم گرانے کا ریکارڈ قا ئم کیا، ایک سال میں پٹرول کی قیمت میں 23 روپے دو پیسے کا اضافہ ہونا پی ٹی آئی کے وعدوں کی قلعی کھولتاہے،

ڈالر کی اونچی اڑان اور روپے کی بے قدری بھی حکومت کی معاشی پالیسیوں کی ناکامی کا ثبو ت ہے، معیشت کے تمام اعشاریے حکومتی وعدوں کی طرح منفی رہے، چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے آٹھواں اجلاس بھی آج بے نتیجہ ختم ہوگیاہے،حکومت اداروں کے تناؤ او ر سیاسی دھند کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہے، نیب آرڈی نینس کے ذریعے وزیراعظم اپنے دوستوں کو بچانا اور مخالفین کو پھنسانا چاہتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکومت نے خاموش این آر او شروع کررکھاہے اور چور مچائے شور کے مصداق آئے روز این آر او نہ دینے کے دعوے کرتی رہتی ہے۔ جب تک حکومت میں بیٹھے لوگ خود کو احتساب کے لیے پیش نہیں کرتے، احتساب ادھورا رہے گا۔ انہوں نے کہاکہ سابقہ حکومتوں کے نااہل لوگوں کو موجودہ حکومت میں جمع کردیا گیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنے اندر احتساب کا نظام وضع کریں اور کرپٹ افراد کو اہم ذمہ داریاں دینے کی بجائے احتساب کے کٹہرے میں لے کر آئیں۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ خوش فہمیاں اپنی جگہ لیکن ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھروں کا وعدہ خام خیالی کے سواکچھ بھی نہیں۔ پندرہ ماہ میں حکومت اپنی معاشی پالیسی کی ڈائریکشن کا تعین نہیں کر سکی۔ مہنگائی اور بے روزگاری نے معیشت کا پہیہ الٹا گھما دیاہے۔ غریب کا چولہا ٹھنڈا ہو گیاہے۔ موجودہ حکومت نے سب سے زیادہ نوجوانوں کو مایوس کیاہے۔

نوجوانوں نے پی ٹی آئی کا ساتھ اس لیے دیا تھاکہ انہیں روزگار ملے گا مگر حکومت کی نااہلی کی وجہ سے لاکھوں لوگ بے روزگار ہوچکے ہیں۔ آئی ایم ایف نے معیشت میں بہتری کے تمام حکومتی دعوؤں کا پول کھول دیاہے۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق ملکی معیشت آنے والے سالوں میں بھی اسی طرح بدحالی کا شکار ہے گی اور عوام کو ریلیف ملنے کی کوئی امید نہیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے پندرہ ماہ میں بیرونی قرضوں میں 35فیصد اضافہ کر کے سابقہ حکومتوں کا بھی ریکارڈ توڑدیاہے۔ آج پھر گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی سمری بھیجنے کی بات کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ شوگر ملز مالکان کسانوں کا استحصال کر رہے ہیں۔ شوگر ملوں نے گنے کی خریداری روک دی ہے جس سے گنے کے کاشتکارسخت پریشان ہیں۔زرعی ملک میں زراعت کا نگران اپنے جائز حقوق کے لیے سخت سردی کے باوجو د سڑکوں پر آنے پر مجبور ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…