جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

نئے چیف جسٹس گلزار احمد کا مختصر تعارف اور کیریئر پر ایک نظر انہوں نے ن لیگ کے کس سینئر رہنما کا نااہل قرار دیا تھا؟

datetime 21  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس گلزار احمد 2 فروری 1957 کو کراچی میں پیدا ہوئے، ان کے والد کا نام نور محمد تھا جن کا شمار کراچی کے معروف وکلا میں ہوتا تھا۔انہوں نے ابتدائی تعلیم کراچی میں گلستان اسکول سے حاصل کرنے کے بع نیشنل کالج سے بی اے کی ڈگری حاصل کی جبکہ ایس ایم لا کالج سے ایل ایل بی کی ڈگری مکمل کی۔آپ نے 18 جنوری 1986 کو خود کو بحیثیت ایڈووکیٹ انرول کروایا

جبکہ 4 اپریل 1988 کو آپ نے ہائیکورٹ کے ایڈووکیٹ کے طور پر خود کو انرول کروایا۔آپ نے 15 ستمبر 2001 کو سپریم کورٹ ا?ف پاکستان میں خود کو ایڈووکیٹ کی حیثیت سے انرول کروایا۔اس کے علاوہ جسٹس گلزار احمد 1999 سے 2000 کے دوران سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اعزازی سیکریٹری کے عہدے کے لیے بھی منتخب ہوئے۔2002 میں سندھ ہائی کورٹ کے جج منتخب ہونے سے قبل وہ کراچی کے 5 سرفہرست وکلا میں شامل تھے۔انہوں نے اپنے کیرئیر میں سول، لیبر، بینکنگ، کمپنی قوانین اور کورپوریٹ سے متعلق کیسز میں وکالت کی۔جسٹس گلزار احمد 27 اگست 2002 کو سندھ ہائی کورٹ کے جج منتخب ہوئے جبکہ 16 نومبر 2011 کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کی حیثیت سے ترقی حاصل کی۔ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل آف پاکستان میں ایک بھی شکایت موجود نہیں۔علاوہ ازیں جسٹس گلزار احمد انسٹیٹیوٹ آف بزنس اینڈ ٹیکنالوجی، این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، اقرا یونیورسٹی، احمد ای ایچ، جعفر فاو?نڈیشن اور آغا خان یونیورسٹی کے بورڈ آف گورنرز کے ممبر جبکہ انرولمنٹ کمیٹی آف سندھ بار کونسل کراچی کے چیئرمین بھی رہے۔وہ سندھ ہائی کورٹ کی ڈیوپلمنٹ کمیٹی اینڈ آئی ٹی کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے۔جسٹس گلزار احمد اپنے پیش رو جسٹس آصف سعید کھوسہ اور دیگر کے ساتھ پاناما بینچ کا حصہ تھے جنہوں نے 20 اپریل 2017 کو پاناما کیس کی آئینی درخواستوں کا فیصلہ سنایا تھا۔

اس کے علاوہ آپ نے کراچی میں قبضہ مافیا اور تجاوزات کیس اور رہائشی علاقوں میں کمرشل سرگرمیوں سے متعلق کیس کا فیصلے سنایا، ساتھ ہی عسکری اداروں کی جانب سے تجاوزات اور کمرشل سرگرمیوں کے کیسز کا فیصلہ بھی سنایا، ان کے فیصلے کے بعد شہر میں 500 غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کیا گیا۔اس کے علاوہ جسٹس گلزار احمد نے توہین عدالت کیس میں مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی طلال چوہدری کو سزا سنائی تھی اور نااہل قرار

دیا تھا۔علاوہ ازیں انہوں نے ڈیفنس ہاو?سنگ اتھارٹی، تھرکول منصوبے میں کرپشن، کراچی میں بارش کے دوران کے الیکٹرک کی لاپروائی کے باعث ہلاکتوں اور امل قتل کیسز کی سماعت بھی کی اور ان کی جانب سے سخت ریمارکس دیکھنے میں آئے۔یاد رہے کہ جسٹس گلزار احمد 20 دسمبر 2019 کو سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے دور میں ان کے بیرون ملک دوروں کے دوران متعدد مرتبہ قائم مقام چیف جسٹس کے عہدے پر بھی فائز رہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…