اتوار‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2025 

حکمرانوں نے سقوط ڈھاکہ سے سبق سیکھا ہوتا تو آج کشمیر کے مسئلے پر ہاتھ پہ ہاتھ دھرے نہ بیٹھے ہوتے،سراج الحق نے حکمرانوں کو بے ضمیر کہتے ہوئے بڑا اعلان کر دیا

datetime 15  دسمبر‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(این این آئی)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ حکمرانوں نے سقوط ڈھاکہ سے کوئی سبق سیکھا ہوتا تو آج کشمیر کے مسئلے پر ہاتھ پہ ہاتھ دھرے نہ بیٹھے ہوتے۔5اگست کے بھارتی اقدام کا جواب نہ دے کر حکمرانوں نے قومی امنگوں کا خون کیا۔ بھارت کشمیریوں کا قتل عام کر رہاہے اور ہمارے حکمران ٹیپو سلطان کی راہ پر چلنے کے نعرے لگانے کے بعد خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

سیرت مصطفیؐ ہمیں اپنے کمزور اور مظلوم بھائیوں کا سہارا بننے اور متحد ہو کر ظلم کا خاتمہ کرنے کا درس دیتی ہے۔ مسلمان نہ ظلم کرتاہے اور نہ ظلم کو برداشت کرتاہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے دیر میں سیرت مصطفیؐ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ 16 دسمبر نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام کے لیے ایک تازیانے کی حیثیت رکھتاہے اور ہر سال ہمیں یہ یاد دلاتاہے کہ اگر دشمن کے مقابلے میں متحد ہو کر پوری قوت سے دشمن کا مقابلہ نہیں کرو گے تو اس کا خمیازہ تمہاری آنے والی نسلوں کو بھی بھگتنا پڑے گا۔سقوط غرناطہ کے بعد سقوط ڈھاکہ کو فراموش کرنے والے حکمرانوں نے امت کو مایوس کیا ہے۔ عالم اسلام پر بے حس اور عالمی استعماری قوتوں کے آلہ کار حکمران مسلط ہیں۔ کشمیر اور فلسطین اس وقت عالم اسلام کے سلگتے مسائل ہیں۔ 73 سال سے کشمیر میں ہنود اور فلسطین میں یہود مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں مگر مسلم حکمران خواب غفلت سے بیدار ہونے کو تیار نہیں۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ نہتے افغانوں نے دنیا کی تین بڑی طاقتوں کو شکست دے کر ثابت کردیا ہے کہ اللہ پر یقین محکم ہو تو دنیا کی کوئی طاقت اسلام اور مسلمانوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ امریکی صدر ٹرمپ بھی رات کے اندھیرے میں افغانستان کا دورہ کرتاہے۔ ٹرمپ اتنا خوفزدہ ہے کہ جب تک وہ افغانستان سے واپس نہیں چلا گیا کسی کو اس دورے کی کانوں کان خبر نہیں ہونے دی۔انہوں نے کہاکہ اللہ پر ایمان انسان کو نڈر اور جرأت مند بناتاہے یہی وجہ ہے کہ چند سو مسلمان ہزاروں اور چند ہزار لاکھوں کے لشکر سے ٹکرا جاتے تھے اور اللہ انہیں ہر میدان میں فتح و نصرت سے نوازتاتھا۔

آج کشمیر کی مائیں بہنیں اور بیٹیاں چیخ و پکار کر رہی ہیں مگر کوئی محمد بن قاسم اور محمود غزنوی ان کی پکار سننے والا نہیں۔ کشمیر میں 133 دنوں سے بدترین کرفیو ہے۔ ہزاروں نوجوانوں کو پکڑ کر بھارتی جیلوں میں بند کردیا گیاہے۔ بھارتی غاصب فوج روزانہ نوجوانوں کو پکڑتی ہے اور انٹیروگیشن سنٹرز اور ٹارچر سیلوں میں ان پر بدترین اور انسانیت سوز تشدد کیا جاتاہے تاکہ وہ آزادی کے مطالبے سے دستبردار ہو جائیں مگر 73سالوں سے

لاکھوں کشمیریوں کو شہید کرنے ہزاروں خواتین کی عزتیں پامال کرنے اور کشمیری قیادت سمیت ہزاروں لوگوں کو جیلوں میں بند رکھنے کے باوجود وہ کشمیریوں کے جذبہ حریت کو شکست نہیں دے سکے۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ 22 دسمبر کو ملک بھر سے لاکھوں لوگ اسلام آباد کشمیر مارچ میں شریک ہوکر بے ضمیر حکمرانوں کے ضمیر کو جھنجھوڑنے اورانہیں جگانے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ قوم کسی قیمت پر سقوط سری نگر نہیں ہونے دے گی۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…