جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

دعا منگی کے اغوا اور پراسرار بازیابی کے بعد مغویہ کا پولیس کو دیئے جانے والا ابتدائی بیان منظر عام پر آگیا،تہلکہ خیز انکشافات

datetime 11  دسمبر‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)شہرقائد کے علاقے ڈیفنس سے نوجوان لڑکی دعا منگی کے اغوا اور پراسرار بازیابی کے بعد مغویہ کا پولیس کو دیئے جانے والا ابتدائی بیان منظر عام پر آگیا۔تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے ڈیفنس سے اغوا ہونے والی دعا منگی نے پولیس ٹیم کو ابتدائی بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہاہے کہ حارث اور میں چائے ماسٹر سے اٹھ کر ٹہلنے نکلے تھے کہ

اچانک 2 افراد نے مجھے پکڑا اور گاڑی میں ڈال دیا اس دوران شور ہونے لگا تو اچانک گولی چلنے کی آواز آئی، گاڑی میں ڈالنے کے بعد ملزمان نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور آنکھوں پر پٹی باندھ کر گاڑی کو گھماتے رہے اور مجھے تین بار دوسری گاڑیوں میں منتقل کیا جاتا رہا۔۔دعا منگی نے اپنے بیان میں مزید بتایا کہ وقت کا اندازہ نہیں کہ ملزمان نے کتنی دیر تک مجھے گاڑی میں گھوماتے رہے۔تفتیشی ٹیم کو دئیے گئے بیان میں دعا منگی نے کہاکہ میں نے کسی شخص کا چہرہ نہیں دیکھا بس کھانا کھاتے وقت میری آنکھوں سے پٹی ہٹادی جاتی تھی۔دعا منگی نے کہا کہ جب بھی کھانا دیا جاتا تھا تو کوئی دوسرا شخص بول رہا ہوتا تھا، میرے ہاتھ پاؤں باندھ کر کانوں میں ایئرفون لگادئیے جاتے تھے جبکہ اغوا کاروں نے مجھ پر کوئی تشدد نہیں کیا،اغوا کاروں نے مجھے ایک شاپنگ مال کے قریب چھوڑا تھا۔تفتیشی حکام کے مطابق دعا نے اپنے بیان میں کوئی خاطر خواہ معلومات نہیں دی، دعا اور اس کے والدین کے بیان سے تفتیش میں کوئی مدد نہیں مل رہی۔ذرائع کے مطابق تفتیشی پولیس کو کچھ اہم شواہد بھی ملے ہیں جن کی روشنی میں تحقیقات کو انتہائی محتاط انداز میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق دعا منگی کا بیان ریکارڈ کرنے والی ٹیم میں مختلف ایجنسیوں کے افسران بھی شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…