جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

سندھ  میں تبادلوں کا  معاملہ،  صوبائی حکومت اور وفاق میں ٹھن گئی

datetime 10  دسمبر‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی(آن لائن)سندھ پولیس کے تبادلوں کے معاملے پر سندھ حکومت اور وفاق آمنے سامنے آگئے ، سندھ حکومت نے ایس ایس پی عمرکوٹ کی خدمات واپس نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا جبکہ وفاق نے ایس ایس پی عمرکوٹ اعجاز شیخ کی خدمات واپس لے لی تھیں۔تفصیلات کے مطابق سندھ پولیس میں ایک اور تبادلے پر تنازع کھڑا ہوگیا اور سندھ حکومت اور وفاق آمنے سامنے آگئے ، سندھ حکومت نے ایس ایس پی

عمرکوٹ کی خدمات واپس نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ ایس ایس پی اعجازشیخ سندھ میں کام کرتے رہیں گے۔وزیراعلیٰ سندھ کے احکامات پرمتعلقہ حکام کااعجاز شیخ کو چارج نہ چھوڑنے کا حکم دیا جبکہ سندھ حکومت نے وفاق کوایس ایس پی اعجازشیخ کاتبادلہ روکنے سے تحریری آگاہ کردیا ہے۔چیف سیکریٹری سندھ کی جانب سے وفاقی حکومت کوخط لکھا گیا، جس میں کہا گیا ایس ایس پی عمرکوٹ اعجازشیخ کی ضرورت ہے،صوبہ بدرنہیں کیا جاسکتا۔خیال رہے وفاق نے ایس ایس پی عمرکوٹ اعجاز شیخ کی خدمات واپس لے لی تھیں۔دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر ایس پی ایسٹ اظفر مہیسر اورایس پی شکار پور ڈاکٹر رضوان کا تبادلہ کیا گیا، جس کے بعد سینئرپولیس افسران کے تبادلے پراپوزیشن لیڈرفردوس شمیم نقوی نے چیف سیکریٹری سندھ کو خط لکھا ہے۔خط میں کہاگیاہے کہ بغیر کیس انکوائری کے سینئرافسران کے تبادلے مشکوک ہیں ، وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر ایس ایس پی ایسٹ اظفر مہیسر کا تبادلہ کیاگیا، اظفر مہیسر نے یوسف ٹھیلے والے کا بیان قلمبند کیاتھا،یوسف ٹھیلے والے نے بیان میں کہا تھا وزیراعلیٰ سے ملنے جاتا تھا۔خط میں کہا گیا ایس پی شکار پور ڈاکٹر رضوان کا تبادلہ کیا گیا، وزیراعلیٰ سندھ نے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پولیس افسر کا تبادلہ کیاتھا اور الزام عائد کیا کہ جرائم پیشہ عناصر کی پشت پناہی پیپلز پارٹی کر رہی ہے۔فردوس شمیم نقوی کا کہنا تھا کہ حالیہ ایکٹ کے مطابق پولیس افسران کابغیرانکوائری تبادلہ نہیں کیاجاسکتا، آئی جی افسران کے تبادلے پر راضی نہیں تھے، ان کی مرضی کے بغیر تبادلے کئے گئے، بحیثیت چیف سیکریٹری ایمانداری اورشفافیت سے کام کرنا چاہیے، پولیس افسران کے تبادلوں کے فیصلے پر فوری نظرثانی کی جائے۔یاد رہے چند روز قبل ڈاکٹر رضوان کو صوبہ بدر کرنے کے معاملے پر مزید اختلافات سامنے آ گئے تھے اور چیف سیکریٹری کے حکم کے باوجود ایس پی ڈاکٹر رضوان نے عہدہ نہیں چھوڑا تھا۔آئی جی سندھ ڈاکٹر کلیم امام نے ایس پی ڈاکٹر رضوان کو عہدہ چھوڑنے سے روک دیا تھا ، ذرائع کا کہنا تھا کہ آئی جی نے سندھ حکومت کے فیصلے کے بعد ڈاکٹر رضوان کو عہدہ چھوڑنے سے منع کیا ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…