جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

آپ کی وجہ سے ہی یہ کچھ ہوا۔۔۔ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری اپنے ہی ساتھی وزیر شاہ محمود قریشی پر برس پڑیں،کھری کھری سنا دیں

datetime 10  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(اے این این ) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے کی ان کی کوششوں کو نہ سراہنے پر دفتر خارجہ کو تنقید کا نشانہ بنا ڈالا۔

ہیومن رائٹس ڈپلومیسی کے نام سے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی احکامات معاہدوں اور قراردادوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ذریعے چلائے جارہے ہیں جس پر پاکستان سمیت زیادہ تر ممالک راضی ہیں۔انہوں نے اس بات پر مایوسی کا اظہار کیا کہ دفتر خارجہ نے تبدیلوں کے ساتھ اپنی رفتار تیز نہیں کی اور سفارت کاری کی نوعیت میں آنے والی تبدیلیوں کو سمجھنے سے انکاری رہا۔ان کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کی 7 بین الاقوامی قراردادیں ایسی ہیں جس میں پاکستان فریق ہے، ان میں انٹرنیشنل کنوینینٹ برائے سول اینڈ پولیٹکل رائٹس، انٹرنیشنل کنوینینٹ آن اکنامکس، سوشل اینڈ کلچرل رائٹس، کنوینشن اگینسٹ ٹارچر، کنوینشن آن ایلمنیشن آف آر فورمز آف ڈسکریمنشین اگینسٹ ویمن، کنوینشن آن رائٹس آف پرسنز ود ڈس ایبلینیٹز، کنوینشن آن رائٹس آف دی چائلڈ اینڈ دی انٹرنیشنل کنوینشن آن دا ایلمنیشن آف آل فارم آف ریشیل ڈسکریمنیشن شامل ہیں۔شیریں مزاری کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے ان کنویشنز کے تحت عائد ذمہ داریوں پر عمل کر کے فوائد حاصل کیے ہیں لیکن دفتر خارجہ بین الریاستی تعلقات میں انسانی حقوق سفارت کاری کی اہمیت کو تسلیم نہیں کرتا۔شیریں مزاری کے مطابق دفتر خارجہ کی جانب سے انسانی حقوق کو اتنی اہمیت نہ دینے کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالیاں مکمل طور پر بے نقاب ہونے سے محروم رہیں۔

وزیر انسانی حقوق نے کہا کہ 5 اگست کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے الحاق کے اقدام کے بعد لائن آف کنٹرول کے اطراف میں بھارت کے کلسٹر بموں کے استعمال کے بارے میں انہوں نے اقوامِ متحدہ کے ہائی کمیشن برائے انسانی حقوق، 18 ایچ آر اسپیشل پروسیجر مینڈیٹ ہولڈرز اور اقوام متحدہ کے دفتر برائے کووآرڈنیشن آف ہیومنیٹرین افیئرز کو خط لکھا۔اس خط میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ مقبوضہ وادی میں رہنے والے افراد کو بین الاقوامی قانون کے تحت انسانی راہداری مہیا کی جائے۔

اسی طرح انہوں نے بھارت کی جانب سے ریپ کو بطور ہتھیار استعمال کرنے پر یو این ایس سی کی قرارداد نمبر 1325 کی خلاف ورزی پر بھی روشنی ڈالی۔ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر مایوسی کا اظہار کیا کہ دفتر خارجہ کی جانب سے فالو اپ نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اگر اس حوالے سے زیادہ آگاہی ہوتی تو ہم بھارت کے مقبوضہ کشمیر کے ساتھ الحاق پر یو این جی اے کے ذریعے آئی سی جے سے مشاورتی رائے لے سکتے تھے۔شیریں مزاری نے موجودہ دور کی ضروریات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے خارجہ پالیسی کے ڈھانچے کے ازسر نو جائزے کی تجویز دی، اس کے ساتھ انہوں نے انسانی حقوق کی سفارت کاری میں موضوعاتی طریقہ کار پر زور دینے کا مطالبہ کیا۔علاوہ ازیں انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی زیادتیوں کو نظر انداز کرنے پر مغربی ممالک کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو انسانی حقوق کا معیار قائم کرنے کا دعوی کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…