جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے لندن اور دوبئی سے کتنی رقم حمزہ شہباز، سلمان شہباز، بیگم نصرت شہباز، علی عمران، بیگم رابعہ عمران اور بیگم جویریہ علی کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئی؟تفصیلات منظر عام پر آگئیں

  اتوار‬‮ 8 دسمبر‬‮ 2019  |  21:36

اسلام آباد (این این آئی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر نے ایک بار پھر کہاہے کہ شہباز شریف نے جعلی ٹی ٹی، ملازمین کے نام پر جعلی فرنٹ کمپنیوں اور اعلیٰ عہدوں پر فرنٹ مین تعینات کر کے منظم طریقے سے کالا دھن اپنے خاندان کے بینک کھاتوں میں میں منتقل کرایا، نیب اور دیگر ادارے ان کی منظم منی لانڈرنگ کی تحقیقات کر رہے ہیں جس کیلئے شہباز شریف کو جوابدہ ہونا پڑے گا، قوم شہباز شریف سے پوچھے گئے 18سوالوں کے جواب کی منتظر ہے۔ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے


احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا کہ قوم شہباز شریف سے پوچھے گئے سوالوں کے جواب کی منتظر ہے، دھیلے کی کرپشن نہ کرنے کا راگ الاپنے والے صرف اس سوال کا ہی جواب دے دیں کہ کیا آپ نے اپنے فرنٹ مین نثار گل کو وزیراعلیٰ دفتر کا نہ صرف ڈائریکٹر لگایا بلکہ خلاف ضابطہ بیک ڈیٹ میں تقرر کیا اور ترقی بھی دی۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ شہباز شریف جو قوم کو دھیلے کی کرپشن کی داستان سناتے تھے، وہ یہی بتا دیں کہ شہباز شریف نثار گل کو خلاف ضابطہ وزیراعلیٰ دفتر کا ڈائریکٹر مقرر کرنے اور انہیں ترقی دینے کا ہی جواب دے دیں کہ کیا انہوں نے ایسا نہیں کیا تھا؟ بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا کہ اس حوالے سے جواب دیں ورنہ یہ ثبوت بھی منظر عام پر ہو گا۔انہوں نے کہاکہ شہباز شریف کے فرنٹ مین نثار گل کے حوالے سے یہ الزامات ان کے دورہ اقتدار میں بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سابق وزیراعلیٰ کی منی لانڈرنگ، جعلی ٹی ٹی اور فرنٹ کمپنیوں کا انکشاف ایک حقائق نامے میں بھی سامنے آیا ہے،اس حقائق نامے کے مطابق شہباز شریف خاندان کے خلاف بذریعہ جعلی ٹی ٹی بیرون ملک سے منی لانڈرنگ کرنے کی تحقیقات قومی احتساب بیورو لاہور کی طرف سے بھی جاری ہیں،ان تحقیقات کے مطابق شہباز شریف خاندان کی جائیداد میں 2008ء کے بعد ہوش ربا اضافے کے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حقائق نامے کے مطابق 2008ء سے 2013ء کے دوران 202 جعلی ٹی ٹی کے ذریعے 1.57ارب روپے شہباز شریف خاندان کے افراد کے ذاتی اکاؤنٹس میں منتقل کیے گئے۔ جن افراد کے ذاتی اکاؤنٹ میں جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے لندن اور دوبئی سے بھاری رقوم منتقل ہوئیں ان میں حمزہ شہباز، سلمان شہباز، بیگم نصرت شہباز، علی عمران، بیگم رابعہ عمران اور بیگم جویریہ علی شامل ہیں اس کے علاوہ فرنٹ مین محمد مشتاق (360ملین روپے (، ملازم کے نام پر ایک کمپنی، وقار ٹریڈنگ کمپنی (140ملین روپے)کے اکاؤنٹ میں بھی بیرون ملک سے جعلی ٹی ٹی کے ذریعے رقوم منگوائی گئیں جو بعدازاں شہباز شریف خاندان کے کاروبار میں منتقل کر دی گئیں، جن لوگوں کے نام پر جعلی ٹی ٹی لگوائی گئیں ان میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو انتہائی غریب ہیں اور وہ کبھی بیرون ملک گئے اور نہ ہی ان کا کبھی پاسپورٹ بنا جن میں منظور احمد پاپڑ والا ساکن پنڈ دادنخان، محبوب احمد پھیری والا ساکن لاہور، قدیر احمد کڑھائی والا ساکن لاہور وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ حقائق نامے کے مطابق جعلی ٹی ٹی کے ذریعے بیرون ملک سے آنے والی یہ رقوم شہباز خاندان نے اپنے بینک کھاتوں میں یہ لکھ کر وصول کی کہ یہ رقوم ان کے قریبی رشتہ داروں نے بھجوائی ہیں اور کاروبار میں سرمایہ کاری کے لئے ہیں۔ اس دولت سے شہباز شریف خاندان نے مختلف جائیدادیں خریدیں جن میں ہاؤس 96ماڈل ٹاؤن لاہور میں واقع شہباز شریف کا گھر (جو بیگم نصرت شہباز کے نام ہے) سرفہرست ہے،اس کے علاوہ اس رقم کو شہباز شریف کی طرف سے نئے کاروبار قائم کرنے کے لئے ان میں ابتدائی سرمایہ کاری کے لئے استعمال کیا، اس کالے دھند سے جو کاروبار کیے اور ان میں سرمایہ کاری کی گئی ان میں چنیوٹ پاور لمیٹڈ، شریف فیڈ ملز، شریف ڈیری فارمز، شریف پولٹری فارمز اور شریف ملک پراڈکٹس وغیرہ شامل ہیں۔ حقائق نامے کے مطابق تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ نہ صرف منی لانڈرنگ سے حاصل ہونے والی دولت سے کاروبار قائم کیے گئے بلکہ ان کی ترقی اور ترویج کے لئے اندرون ملک منی لانڈرنگ کا ایک باقاعدہ نظام بنایا گیا۔ تحقیقات کے دوران 6فرنٹ کمپنیوں کا انکشاف ہوا ہے جو شہباز شریف خاندان کے ملازمین اور فرنٹ مین کے نام پر قائم کیں اور فرنٹ مین کمپنیاں محض کاغذی کمپنیاں تھیں، ان کا حقیقت میں کوئی کاروبار نہیں یہ جعلی کاروباری کھاتے بنا کر کک بیک اور کمیشن کی رقوم شہباز شریف کے درج بالا ظاہر شدہ کاروبار میں منتقل کرتی تھیں، ان فرنٹ کمپنیوں میں گڈ نیچر ٹریڈنگ کمپنی(جی این سی)، یونی ٹاسک لمیٹڈ، نثار ٹریڈنگ کمپنی (راشد کرامت اکاؤنٹنٹ کے نام پر)، وقار ٹریڈنگ کمپنی، سید محمد طاہر نقوی (منیجر کے نام پر)، مقصود اینڈ کمپنی (ملک مقصود چپڑاسی کے نام پر) اور مشاق اینڈ کمپنی (مشتاق چینی والا، فرنٹ مین کے نام پر) شامل ہیں۔باوثوق ذرائع کے مطابق گڈ نیچر ٹریڈنگ کمپنی اور یونی ٹاسک لمیٹیڈ کے ڈائریکٹرز/مالکان نثار احمد گل سکنہ ننکانہ اور علی احمد خان سکنہ قصور ہیں۔ نثار گل ان فرنٹ کمپنیوں کا سی ای او بھی ہے جسے نیب نے گرفتار کر لیا ہے۔ نثار گل نے ابتدائی تحقیقات کے دوران بتایا ہے کہ وہ اور علی احمد سلمان شہباز شریف کے گورنمنٹ کالج لاہور میں کلاس فیلو تھے جہاں سے ان کی دوستی سلمان شہباز سے ہوئی اور بعدازاں ان کی شہباز شریف خاندان سے قربت میں اضافہ ہوا۔ اسی تعلق کی وجہ سے 2009ء میں پنجاب میں شہباز شریف کی بطور وزیراعلیٰ پنجاب حکومت قائم ہونے کے بعد وزیراعلیٰ کے دفتر واقع 8کلب روڈ لاہور میں نثار احمد گل کو ڈائریکٹر برائے وزیراعلیٰ (پولیٹیکل) اور علی احمد کو ڈائریکٹر برائے وزیراعلیٰ (پالیسی) تعینات کیا گیا۔ 2013ء میں نگران حکومت قائم ہونے کے بعد دونوں کو سیاسی بنیاد پر بھرتی کی وجہ سے عہدوں سے برطرف کر دیا گیا تاہم دوبارہ شہباز شریف کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد ان کو انہی عہدوں پر تعینات کر دیا گیا۔ اکتوبر 2015ء میں نثار احمد گل اور علی احمد خان کے نام پر گڈنیچر ٹریڈنگ کمپنی ایک کاغذی کمپنی تیار کی گئی، کاغذوں میں اس کا بگاس کا کاروبار تھا، حقیقت میں کوئی کاروبار نہیں تھا، کمپنی قائم کرنے کے بعد اس کے تین بینک اکاؤنٹس بنائے گئے، نثار گل کے انکشاف کے مطابق اس نے کمپنی کی رجسٹریشن سے متعلقہ دستاویزات اور کمپنی کی خالی چیک بک دستخط کر کے شریف گروپ کے اکاؤنٹنٹ محمد عثمان کے حوالے کر دی اور اسے نہیں معلوم کہ اس کے نام پر قائم کی گئی کمپنی میں کتنا سرمایہ منتقل ہوا یا نکالا گیا، یہ اس کیلئے بھی انکشاف ہے کہ گڈنیچر ٹریڈنگ کمپنی کے اکاؤنٹ میں شہباز شریف خاندان کے اوپر ظاہر شدہ کاروبار سے تقریباً 7ارب روپے منتقل کیا گیا اور بعدازاں ان رقوم کو کھاتوں میں سیل پرچیز وغیرہ ظاہر کر کے واپس انہی کاروبار میں منتقل کر دیا گیا۔ جی این سی کے کھاتوں کی تحقیقات کے دوران مزید انکشاف ہوا کہ جی ایم سی کے بینک اکاؤنٹس سے 2.1ارب روپے کیش کی صورت میں نکلوایا گیا جس میں سے 1.2ارب روپے جی ایم سی کے کسی ملازم نے نہیں بلکہ شہباز شریف خاندان کے انتہائی قابل اعتماد کیش افسران مسرور انور اور شعیب قمر نے نکلوایا، ان دونوں کیش آفیسر کو بھی گرفتار کیا جا چکا ہے، ان کیش افسران کی تحقیقات سے منی لانڈرنگ کے ایک مربوط نظام کا انکشاف ہوا ہے اور یہ بات سامنے آئی ہے کہ کک بیک اور کمیشن کی رقوم شہباز شریف کی رہائش گاہ واقع ہاؤس 96ماڈل ٹاؤن میں سلمان شہباز خود وصول کرتے تھے، وصولی کے بعد وہ یہ رقوم اپنے قابل اعتماد دوست اور فرنٹ مین سید محمد طاہر نقوی کے ذریعے شریف گروپ کے ہیڈآفس واقع کے 55ماڈل ٹاؤن لاہور کی کیش برانچ میں پہنچا دیتے ہیں۔ ہیڈ آفس وصولی کے بعد کیش افسران رقوم کو گن کر فضل داد عباسی کے حوالے کر دیتے تھے جو ان کو لاکرز میں رکھ دیتا تھا۔ وزیراعلیٰ کے گھر سے شریف گروپ ہیڈ آفس رقوم کی منتقلی کے لئے سابق وزیراعلیٰ پنجاب کی ذاتی بلٹ پروف لینڈ کروزر استعمال ہوتی تھی اور ڈیوٹی پر معمور ایلیٹ پولیس پنجاب کے جوان رقوم کی حفاظت کے پیش نظر ہمراہ ہوتے تھے۔حقائق نامے کے مطابق تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ شریف گروپ ہیڈ آفس میں رقوم کی منتقلی کے بعد ان رقوم کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے سلمان شہباز یا ان کے اکاؤنٹنٹ محمد عثمان کی ہدایات کے مطابق مختلف کمپنیوں کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کیا جاتا تھا۔ حقائق کے مطابق تحقیقات میں واضح ہوا کہ جی ایم سی کے کاغذی ڈائریکٹر نثار احمد گل اور علی احمد خان کے ذاتی اکاؤنٹ میں بھی بیرون ملک سے 172ملین روپے بذریعہ ٹی ٹی منگوائے گئے۔ بعدازاں اس رقوم کو جی ایم سی کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دیا گیا اور اس کے علاوہ جی ایم سی کمپنی کے کھاتوں سے 350ملین روپے سرمایہ کاری کی غرض سے گلف شوگر ملز کے اکاؤنٹ میں منتقل کیے گئے اور چند روز بعد کیش افسران مسرور انور اور شعیب قمر نے اس رقم کو گلف شوگر ملز سے کیش کی صورت میں نکلوا کر شریف گروپ اکاؤنٹنٹ کے حوالے کر دیا تاہم کھاتوں میں یہ جعلی سرمایہ کاری آج بھی موجود ہے۔ اپریل 2017ء میں مسرور انور نے 16ملین روپے شہباز شریف کے نیو مسلم ٹاؤن، لاہور میں واقع نجی بینک اکاؤنٹ میں منتقل کیے۔اس رقم کو شہباز شریف نے چاندنی چوک راولپنڈی کے ایک پراپرٹی ڈیلر امیر عظمت راجہ کے اکاؤنٹ میں منتقل کیا اور اس رقم کے ذریعے اپنی زوجہ تہمینہ درانی شریف کے لئے مارگلہ کی پہاڑیوں میں واقع سپرنگ پائن ریزارٹ میں ویلا نمبر19اور کاٹیج نمبر23خریدا۔ اسی طرح شعیب قمر نے اکتوبر 2016ء میں حمزہ شہباز کے نیو مسلم ٹاؤن لاہور میں واقع نجی بینک میں 25ملین روپے جمع کرائے۔ اس رقم کے ذریعے حمزہ شہباز نے سابق ایم پی اے وسیم قادر کے نام پے آرڈر بنانے کے لئے استعمال کیا اور ان سے کے بلاک جوہر ٹاؤن لاہور میں پلاٹ نمبر 61, 61-Aاور 63اپنے نام پر خریدے۔ یہ ایسے ان مٹ اور ناقابل تردید شواہد ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ یہ کہ نہ صرف سلمان شہباز منی لانڈرنگ کے اس نیٹ ورک کی براہ راست نگرانی کر رہا تھا بلکہ ان کو اپنے والد شہباز شریف کی آشیرباد اور مکمل سرپرستی حاصل تھی جنہوں نے نہ صرف سلمان شہباز کے دوست/فرنٹ مینوں کو وزیراعلیٰ پنجاب کے دفتر میں اعلیٰ سرکاری عہدوں پر تعینات کیا ہوا تھا اور اپنے کیمپ آفس واقع ایچ 96ماڈل ٹاؤن لاہور اور اپنی ذاتی لینڈ کروزرکو کمیشن کی رقوم کی وصولی اور ترسیل کے لئے فراہم کیا ہوا تھا بلکہ ان رقوم کو ٹی ٹی اور فرنٹ کمپنیوں میں ترسیلات کے بعد اپنے ذاتی استعمال میں لانے کے علاوہ اپنے بیرون ملک اخراجات اور مقامی کاروبار میں بڑھاوے کے لئے استعمال کر رہے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان تمام حقائق کے بارے میں نیب کو ان مٹ اور ناقابل تردید شواہد حاصل ہو چکے ہیں۔حقائق نامے کے حوالے سے شہزاد اکبر نے کہا کہ 2019ء سے شہباز شریف کہتے آ رہے ہیں کہ میں لندن آ رہا ہوں اور جا رہا ہوں لیکن مجھے لگتا ہے کہ ان کی یہ گردان انہی قطری خطوط کی طرح ہیں جو ابھی تک نہیں پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ یہ الزامات نہیں ہیں بلکہ انکشافات ہیں جن پر آپ ہمیشہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ جرم کہاں ہوا ہے؟ وزیراعلیٰ ہاؤس لاہور کے اند بیٹھ کر آپ اس گورکھ دھندے کو چلا رہے تھے اور کہتے تھے کہ میں نے ایک دھیلے کی کرپشن نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ مجھے 6 مہینے سے دھمکیاں دے رہے تھے کہ وہ مجھے لندن کی عدالتوں میں لے کر جائیں گے، لیکن ابھی تک میں اس کا بیتابی سے انتظار کر رہا ہوں کہ کب وہ مجھے لندن بلاتے ہیں اور میں موصوف کے مقدمے کا سامنا کروں، لیکن مجھے لگتا ہے کہ جب وہ لندن گئے ہونگے تو ان کے وکلاء نے مشورہ دیا ہو گا کہ میاں صاحب رہنے دیں کہیں لینے کے دینے نہ پڑ جائیں۔

موضوعات: