پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

حکومت کا بجلی صارفین سے 24 روپے 23 پیسے فی یونٹ تک بھی وصول کئے جانے کا انکشاف، تفصیلات قومی اسمبلی میں جمع کرادی گئیں

datetime 8  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) حکومت صارفین سے بجلی کے کیا نرخ وصول کر رہی ہے؟حکومت نے تفصیلات قومی اسمبلی میں جمع کرادیں۔ دستاویزات کے مطابق گزشتہ سال 20 ارب یونٹ، بجلی چوری اور سسٹم کی خرابی کی بھینٹ چڑھ گئے،300 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین سے 10 روپے 20 پیسے فی یونٹ وصول کیے جا رہے۔

دستاویزات کے مطابق 700 یونٹ تک استعمال کرنے والوں سے 19 روپے 18 پیسے فی یونٹ وصول کیے جا رہے۔ دستاویزات میں بتایاگیاکہ 700 سے زائد یونٹ استعمال کرنے والے صارفین 22 روپے 28 پیسے فی یونٹ ادا کر رہے۔ دستاویزات کے مطابق شام 5 سے رات 11 تک فی یونٹ نرخ 22 روپے 28 پیسے مقرر ہے جبکہ کمرشل صارفین سے 24 روپے 23 فی یونٹ وصول کئے جارہے ہیں۔ دستاویزات کے مطابق صنعتی صارفین سے 24 روپے 23 پیسے، ہاوسنگ کالونیوں سے 21 روپے 41 فیسے فی یونٹ لیا جا رہا۔ دستاویزات کے مطابق کسانوں کے لیے زرعی ٹیوب ویل کا فی یونٹ نرخ 21 روپے 23 پیسے وصول کیا جا رہا۔ دستاویزات میں بتایاگیاکہ حکومت تمام صارفین سے اوسط 13 روپے 40 پیسے فی یونٹ لے رہی۔ دستاویزات کے مطابق گزشتہ سال 270 ارب روپے کی بجلی چوری اور لائن لاسز کی نذر ہوئی۔  گزشتہ سال 20 ارب یونٹ، بجلی چوری اور سسٹم کی خرابی کی بھینٹ چڑھ گئے،300 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین سے 10 روپے 20 پیسے فی یونٹ وصول کیے جا رہے۔ دستاویزات کے مطابق 700 یونٹ تک استعمال کرنے والوں سے 19 روپے 18 پیسے فی یونٹ وصول کیے جا رہے۔ دستاویزات میں بتایاگیاکہ 700 سے زائد یونٹ استعمال کرنے والے صارفین 22 روپے 28 پیسے فی یونٹ ادا کر رہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…