جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

 ہزارہ موٹروے میں پتھر اور سریہ کی جگہ مٹی کے استعمال کا انکشاف،مبینہ کرپشن کیخلاف تحقیقات،بڑا حکم جاری

datetime 29  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (آن لائن) سینٹ کی ذیلی کمیٹی  برائے مواصلات نے ہزارہ موٹروے میں مبینہ اربوں روپے کی کرپشن، بدعنوانی، ناقص مٹیریل کے استعمال اور ڈیزائن میں تبدیلی کرنے پر اعلیٰ پیمانے پر انکوائری کرنے کی ہدایت کی ہے، سیکرٹری مواصلات نے کمیٹی اجلاس میں تسلیم کیا ہے کہ ہزارہ موٹروے کی تعمیر میں ناقص مٹیریل استعمال ہوا ہے اور مبینہ کرپشن کا بھی اقرار کیا ہے اور محکمانہ انکوائری کرانے کی متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے۔

سینٹ کی سب کمیٹی کااجلاس کنوینئر سینیٹر فدا محمد خان کی صدارت میں ہوا جس میں سینیٹر یوسف بادینی اور سینیٹر عتیق شیخ کے علاوہ وزارت مواصلات کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی ہے سینٹ  کمیٹی نے اعلیٰ حکام کو حکم دیا ہے کہ وہ گزشتہ دو سالوں میں سامنے آنے والے آڈٹ اعتراضات اور پراجیکٹ منیجرز کیخلاف انکوائری اور کنسلٹنٹ کیخلاف ہونے والی تحقیقات کی مفصل رپورٹ فراہم کریں۔ کمیٹی اجلاس میں سیکرٹری مواصلات نے انکشاف کیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما امیر مقام کی ملکیتی کنٹریکٹ کمپنی امیر مقام اینڈ کمپنی کو کرپشن کی وجہ سے بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے اس کمپنی نے پوری بشام روڈ کی تعمیر کی لاگت ستر کروڑ سے اڑھائی ارب تک لے گئے اور ایف آئی اے نے اس کمپنی کیخلاف تحقیقات مکمل کر لی ہیں اور مقدمہ عدالت میں ہے اس کرپشن سکینڈل میں اس منصوبہ کے پراجیکٹ منیجر اور دیگر اعلیٰ افسران کیخلاف تحقیقات جاری ہیں سیکرٹری مواصلات نے کہا کہ بلوچستان کے لوگ ٹال ٹیکس نہیں دیتے ہیں ہم نے ٹیکس وصول کرانے کی کوشش کی جو ناکام ہو گئی ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایک سال میں سڑکوں کی مرمت کے 495ٹھیکے دیئے گئے۔ نواز شریف کے پہلے دور حکومت میں چار ارب 58 کروڑ روپے کے ٹھیکے دیئے گئے تھے۔ سینیٹرز نے اس مرحلہ پر افسران پر شدید تنقید کی۔ سیکرٹری مواصلات نے کہا کہ ملک بھر میں وزن،  کانٹے کی تعداد 161 ہے تاہم ملک میں ایکسل لوڈ قانون نافذ نہیں ہو سکا

اور ماضی کی حکومتوں نے اس پر عملدرآمد نہیں کرایا اور حکومتیں اس قانون کو موثر نہیں بنا سکیں۔ سیکرٹری نے کہا کہ ہم معزز ممبران سے کوئی چیز چھپانا نہیں چاہتے تاہم افسران کی عزت نفس کا بھی خیال رکھا جائے۔ سیکرٹری نے کہا کہ لاہور سے راولپنڈی این فائیو سے تمام اخراجات وصول کر چکے ہیں تاہم ابھی تک ٹال ٹیکس ختم نہیں کیا ہے کمیٹی نے ایف ڈبلیو او اور مورے کمپنی کے اشتراک اور ان کو دیئے گئے کنٹریکٹ کی بھی تمام تفصیلات طلب کر لی ہیں۔

کمیٹی میں انکشاف ہوا ہے کہ ہزارہ موٹروے کا افتتاح ہوتے ہی  پلیں (برج) بیٹھ گئے ہیں کیونکہ ان میں ناقص مٹیریل استعمال ہوا تھا سیکرٹری نے بتایا کہ اس روڈ پر مٹی زیادہ استعمال ہوئی حالانکہ مٹی کی جگہ پتھر اور سیمنٹ استعمال ہونا تھا جس وجہ سے موٹروے اور پلوں پر گڑھے پڑ چکے ہیں جس پر کمیٹی نے اس منصوبہ میں مبینہ اربوں کی کرپشن کیخلاف  تحقیقات کا حکم دے دیا ہے سیکرٹری نے کہا کہ گڈز ٹرانسپورٹ کو انڈسٹری کا درجہ دیاجائے اور اعلیٰ کوالٹی کی گاڑیاں منگوائی جائیں۔ کمیٹی ممبران نے ایم ٹو پر ٹال ٹیکس میں ہوشربا اضافہ پر شدید احتجاج کیا اور مورے کمپنی کی آمدن اور اخراجات بارے مکمل تفصیلات طلب کر لیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…