جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

آرمی چیف سے متعلق نوٹیفکیشن میں کس نےغلطی کی،اہم ترین دستاویزات کیسے تیسرے شخص کے پاس گئیں؟اہم انکشافات

datetime 27  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر صحافی رانا عظیم کا حالیہ صورتحال پر تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہنا ہے کہ ان تمام حالات میں دیکھنا یہ ہو گا کہ خرابی ہے کہاں پر،میری اطلاع کے مطابق ایک نوٹیفکیشن جاری ہوتا ہے،اگر نوٹیفکیشن میں غلطی ہوتی ہے تو اس کو دیکھنے کے لیے پوری وزارت قانون موجود ہوتی ہے۔

وہاں پر ان لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہوتی ہے جو ان معاملات کو دیکھتی ہے،اسٹیبلشمنٹ ڈویژن بھی موجود ہوتی ہے جن کو ان تمام باتوں کا پتہ ہوتا ہے کہ یہ سمری کہاں جانی ہے اور کہاں سے پاس ہونی ہے۔اگر اس معاملے میںکسی ایک سے غلطی ہوتی ہے تو اس کو چیک کرنے کے لیے وہاں پر اور کئی لوگ موجود ہوتے ہیں۔یہ ایک باقاعدہ سسٹم ہے۔رانا عظیم نے کہا ہے کہ یہ غلطی جان بوجھ کر نہیں ہوئی تاہم اس کو نا اہلی یا لاعلمی کہا جا سکتا ہے۔لیکن اس کے بعد اسٹیبلشمنٹ ڈویژن،وزارت قانون اور وزارت دفاع نے اس غلطی کا جائزہ کیوں نہیں لیا،انہوں نے یہ نکتہ اعتراض کیوں نہیں اٹھایا۔حکومت اور اداروں کو اس معاملے کو دیکھنا ہو گا کہ یہ سازش کہاں سے ہوئی،اہم ترین ڈاکیومنٹس کسی تیسرے شخص کے پاس گئے ہیں اس کو یہ پٹیشن کس نے بھیجی ہے؟۔اہم ترین ادارے کی چیزیں کس طرح باہر نکلی ہیں۔کہیں یہ کوئی عالمی سازش تو نہیں۔رانا عظیم نے مزید کہا کہ عدلیہ قانون کے مطابق کام کر رہی ہے۔عدلیہ کے اس فیصلے کے بعد امید ہے کہ وہ آئین اور قانون کے مطابق ایک بہتر فیصلہ کرے گی۔لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس عدالتی فیصلے کی ذمہ دار صرف حکومت اور سرکاری مشینری ہے،جہاں جہاں سے یہ سمری گزر کر گئی ہے،جس جس نے پڑھی ہے۔یہ سب دیکھنا ہو گا۔کیوں کہ یہاں پر لوگ لاکھوں روپے تنخواہ لے کر کام کر رہے ہوتے ہیں۔ان میں سے کسی نے وزیراعظم کے سامنے ان غلطیوں کی نشاندہی کیوں نہیں کی؟



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…