جمعہ‬‮ ، 09 جنوری‬‮ 2026 

علیم خان کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی پر تجاوزات کا الزام، کس قانون کے تحت ”پرائیویٹ آدمی“ کوسی ڈی اے کی زمین دی گئی؟ چیف جسٹس نے بڑا حکم جاری کردیا

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی رہنما علیم خان کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی پر تجاوزات کے الزام پر کیس کی سماعت کے دور ان سی ڈی اے تحریری جواب طلب کرلیا۔ پیر کو پی ٹی آئی رہنما علیم خان کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی پر تجاوزات کے الزام پر کیس کی سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی۔ دور ان سماعت عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ کو روسٹرم پر بلا لیا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ سی ڈی اے کے ڈائریکٹر لینڈ کہاں ہیں؟۔ چیف جسٹس نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیاکہ سی ڈی اے ڈائیریکٹر لینڈ کیوں عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہاکہ فوری طور پر سی ڈی اے ڈائیریکٹر لینڈ سے رابطہ کر کے عدالت کو بتایا جائے۔بعد ازاں عدالت نے سماعت سماعت کچھ دیر کے لئے ملتوی کر دی بعد ازاں سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو سی ڈی اے کی ڈائریکٹر لینڈ نیشا عدالت کے روبرو پیش ہوئیں۔چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ پرائیوٹ لوگوں کو سی ڈی اے کی زمین کیسے دے دی گئی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ  سی ڈی اے کی زمین غیر شفاف طریقے سے کیسے پرائیوٹ آدمی کو دی گئی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اس زمین کو پرائیوٹ کمپنی کس طرح استعمال کر رہی ہے۔ڈائریکٹر لینڈ سی ڈی اے نے کہاکہ اگر میں اس فائل کو دیکھ لوں اس کے بعد عدالت کو جواب دے سکتی ہوں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ کس قانون کے تحت سی ڈی اے کی زمین دی گئی؟درخواست گزار کا موقف ہے کہ دوسری پارٹی بہت با اثر ہے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ دوسری پارٹی پر الزم ہے کہ وہ اثرو رسوق سے زمین پر قابض ہے۔عدالت نے سی ڈی اے سے تحریری جواب طلب کرلیا۔ عدالت نے کہاکہ عدالت کو مطمئن کریں کہ کیسے سی ڈی اے کی زمین دی گئی،چیف جسٹس نے کہا کہ تفتیشی نے کہا کہ انوسٹگیشن کے دوران یہ زمین سی ڈی اے کی ثابت ہوئی۔ تفتیشی نے بیان دیا کہ یہ سی ڈی اے کی زمین ہے۔ بعد ازاکیس کی سماعت ستائیس نومبر تک ملتوی کردی گئی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…