ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

اگر سمندری مداخلت انڈس ڈیلٹا اور کوسٹ لائن پر جاری رہتی ہے تو سال2060تک کتنےساحلی شہر سمندر برد ہوجائینگے؟پڑھئے تفصیلات

datetime 31  اکتوبر‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)سمندر پر تحقیق کرنے والے قومی ادارے این آئی او کے سربراہ ڈاکٹر آصف انعام نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اگر یہی سمندری مداخلت انڈس ڈیلٹا اور کوسٹ لائن پر جاری رہتی ہے توسال2060تک 3 ساحلی شہر کراچی،ٹھٹھہ اوربدین سمندر برد ہوجائیں گے۔رپورٹ کے مطابق منگروو کا بھی خاتمہ تیزی سے ہورہا ہے اور یہ سب طوفان اور سیلاب جیسی قدرتی آفات کا سبب بنتا ہے۔

تاہم اب ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت فوری طور پر ساحلی پٹیوں کو سمندری مداخلت سے ہونے والے مزید نقصان سے بچنے کیلئے اقدامات کرے اور منگروو لگائے جائیں اور ساتھ ہی درختوں کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ کیا جائے تاکہ ان قدرتی آفات سے ملک کو بچایا جاسکے۔فشر فوک فورم کے سربراہ محمد علی شاہ نے این آئی او کی رپورٹ کو خطرے کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ رپورٹ ویک اپ کال ہے۔انہوں نے ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اب تک 22لاکھ ایکٹر سے زائد زرعی زمین سمندر برد ہوچکی ہے ۔واضح رہے کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے 2015میں اس وقت کے وزیراعظم کو خط ارسال کیا تھا ۔ خط میں کہا گیا تھا کہ سمندری مداخلت کے باعث ساحلی شہر ٹھٹھہ ، بدین آئندہ 30سالوں میں سمندر برد ہوجائیں گے۔خط میں مزید کہا گیاکہ اگر اس معاملے کو حل کرنے کیلئے فوری اقدامات نہیں کیے گئے تو 2060تک کراچی بھی سمندر برد ہوجائیگا۔لیکن حسب روایت اس چونکا دینے والی رپورٹ کے باوجود صاحب اقتدار طبقے کی جانب سے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے تھے۔حتی کہ خط میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا تھا کہ وزارت پانی و توانائی، بحریہ ، سمندر پر تحقیق کا ادارہ اوشنوگرافی سمیت دیگر قومی ادارے فوری اس حوالے سے اپنی تحقیق کا آغاز کریں تاکہ اس صورتحال پر قابو میں لایا جاسکے۔ماہرین ساحلی علاقوں میں اس قیامت خیز تبدیلی کی وجہ کو موسمیاتی تبدیلی ، درجہ حرارت اور غیر منظم اور بے ہنگم شہری تعمیرات ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…