جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

اگر سمندری مداخلت انڈس ڈیلٹا اور کوسٹ لائن پر جاری رہتی ہے تو سال2060تک کتنےساحلی شہر سمندر برد ہوجائینگے؟پڑھئے تفصیلات

datetime 31  اکتوبر‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی(این این آئی)سمندر پر تحقیق کرنے والے قومی ادارے این آئی او کے سربراہ ڈاکٹر آصف انعام نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اگر یہی سمندری مداخلت انڈس ڈیلٹا اور کوسٹ لائن پر جاری رہتی ہے توسال2060تک 3 ساحلی شہر کراچی،ٹھٹھہ اوربدین سمندر برد ہوجائیں گے۔رپورٹ کے مطابق منگروو کا بھی خاتمہ تیزی سے ہورہا ہے اور یہ سب طوفان اور سیلاب جیسی قدرتی آفات کا سبب بنتا ہے۔

تاہم اب ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت فوری طور پر ساحلی پٹیوں کو سمندری مداخلت سے ہونے والے مزید نقصان سے بچنے کیلئے اقدامات کرے اور منگروو لگائے جائیں اور ساتھ ہی درختوں کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ کیا جائے تاکہ ان قدرتی آفات سے ملک کو بچایا جاسکے۔فشر فوک فورم کے سربراہ محمد علی شاہ نے این آئی او کی رپورٹ کو خطرے کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ رپورٹ ویک اپ کال ہے۔انہوں نے ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اب تک 22لاکھ ایکٹر سے زائد زرعی زمین سمندر برد ہوچکی ہے ۔واضح رہے کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے 2015میں اس وقت کے وزیراعظم کو خط ارسال کیا تھا ۔ خط میں کہا گیا تھا کہ سمندری مداخلت کے باعث ساحلی شہر ٹھٹھہ ، بدین آئندہ 30سالوں میں سمندر برد ہوجائیں گے۔خط میں مزید کہا گیاکہ اگر اس معاملے کو حل کرنے کیلئے فوری اقدامات نہیں کیے گئے تو 2060تک کراچی بھی سمندر برد ہوجائیگا۔لیکن حسب روایت اس چونکا دینے والی رپورٹ کے باوجود صاحب اقتدار طبقے کی جانب سے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے تھے۔حتی کہ خط میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا تھا کہ وزارت پانی و توانائی، بحریہ ، سمندر پر تحقیق کا ادارہ اوشنوگرافی سمیت دیگر قومی ادارے فوری اس حوالے سے اپنی تحقیق کا آغاز کریں تاکہ اس صورتحال پر قابو میں لایا جاسکے۔ماہرین ساحلی علاقوں میں اس قیامت خیز تبدیلی کی وجہ کو موسمیاتی تبدیلی ، درجہ حرارت اور غیر منظم اور بے ہنگم شہری تعمیرات ہیں ۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…