ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

سفاک باپ نے اپنی بیٹی قتل کردی،جرم چھپانے کیلئے لاش اٹھا کر کیا کرتا رہا؟جانئے

datetime 22  اکتوبر‬‮  2019 |

جہلم( آن لائن )جہلم میں ایک سفاک شخص نے اپنی 6 سالہ معصوم بچی کے قتل کا اعتراف کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق جہلم کے علاقہ مشین محلہ میں دو روز قبل باپ کے ہاتھوں بیٹی کے قتل کا دلخراش واقعہ پیش آیا جس میں ملزم شبیر حیدرنے بیوی سے بات نہ ماننے کا غصہ بیٹی پر اتار دیا۔ ملزم نے بچی کو گھر میں قتل کیا اور پھر لاش گلی میں لے آیا ۔ملزم نے بیٹی کے قتل کو ڈرامائی رنگ دینے کی

کوشش کی اور پولیس کو بتایا کہ تین نامعلوم افراد نے ڈکیتی کے دوران 6 سالہ حجاب فاطمہ کے گلے پر تیز دھارے سے وار کیے جس کے نتیجے میں وہ جان سے ہاتھ دھوبیٹھی ۔ پولیس نے کہا کہ ہم نے سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی تو وقوعہ پر ملزم کے علاوہ کوئی اور موجود نہیں تھا۔ پولیس نے بتایا کہ ملزم کے پہلے بیان پر ہی شک ہوگیا تھا کہ یہ شخص جھوٹ بول رہا ہے ۔پولیس نے تفتیش اورسی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزم کو گرفتار کیا جس نے دوران تفتیش بیٹی کو گلا دبا کرقتل کرنے کا اعتراف کرلیا ۔ ملزم کا کہنا تھا کہ بیوی نے بات نہیں مانی جس پر اس نے بیٹی کو قتل کردیا ۔ ملزم نے بتایا کہ میری اہلیہ زیارات پر جا رہی تھی تو بچی نے عین موقع پر والدہ کو منع کیا اور کہا کہ ماما آپ نہ جائیں۔ میری اہلیہ نے اس کی بات نہیں سنی اور کہا کہ میں نے اب جانا ہے۔مجھے میری بچی بہت پیاری تھی ۔ سوا چھ سال کے دوران میں نے آج تک اپنی بیٹی کو ڈانٹا تک نہیں۔ ملزم نے کہا کہ میں نے اس لیے اپنی بچی کو مارا کیونکہ اس کی والدہ اس کی ایک بات تک نہیں مان سکی تھی۔ سفاک باپ نے بتایا کہ میں نے گلا دبا کر اور چہرے پر شاپر رکھ کر اپنی بیٹی کو قتل کیا۔ جس وقت میں نے اپنی بیٹی کا قتل کیا اس وقت میری اہلیہ میرے بھائی کے گھر گئی ہوئی تھی اور اس وقت گھر پر کوئی موجود نہیں تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…