کنٹرول لائن پر پاک بھارت شدید جھڑپیں جاری،دونوں جانب بھاری نقصان، 43 دکانیں، 53 مکان، 6 گاڑیاں تباہ،9بھارتی فوجی ہلاک،پاک فوج کا ایک سپاہی6شہری شہید

  اتوار‬‮ 20 اکتوبر‬‮ 2019  |  19:49

مظفر آباد / راولپنڈی /آٹھمقام(این این آئی)بھارتی افواج نے ایک بار پھر ایل او سی پر سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کرتے ہوئے شہری آبادی کو نشانہ بنایا فائرنگ کے تبادلے میں میں پاک فوج کا ایک سپاہی اور چھ شہری شہید اور پاک فوج کے دو جوان اور چھ شہری زخمی ہوگئے، پاک فوج کی موثر جوابی کارروائی کے نتیجے میں 9بھارتی فوجی مارے گئے،کئی زخمی اور دو بھارتی بنکرز تباہ ہوگئے جبکہ پاکستانی دفتر خارجہ نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر گورو اہلوالیہ کو طلب کر کے ایل او سی کی خلاف ورزی اور شہادتوں کے واقعہ پر


شدید احتجاج کرتے ہوئے خبر دار کیا ہے کہ ہم اپنے ملک کا دفاع کرنا جانتے ہیں،شہادت ہے مطلوب و مقصود ہے مومن،نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی۔اتوار کو ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے مطابق بھارتی افواج نے ایک بار پھر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جوڑا، شاہکوٹ اور نوشیری میں بلا اشتعال فائرنگ کر دی، بھارتی فوج کی جانب سے شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کا ایک سپاہی لانس نائیک زاہد اور پانچ شہری شہید، پاک فوج کے دوجوان اور تین شہری زخمی ہوگئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کی جانب سے موثر جوابی کارروائی کی گئی جس کے نتیجے میں 9 بھارتی فوجی ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کے موثر جواب سے دو بھارتی بنکرز تباہ ہوگئے۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہاکہ بھارت مبینہ کیمپوں کے جعلی دعوؤں میں جان ڈالنے کیلئے معصوم شہریوں کو نشانہ بنارہا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ بھارتی بلا اشتعال کارروائی کے باعث زخمی ہونے والوں کو ڈسٹرکٹ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین برائے بھارت و پاکستان اور مقامی و غیر ملکی میڈیا نمائندگان کو آزاد کشمیر میں مکمل رسائی حاصل ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں انہیں یہ آزادی حاصل نہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آ کے مطابق اقوام متحدہ کے مبصر مشن کے اراکین، عالمی و ملکی میڈیا ازاد کشمیر جا کر صورتحال کا جائزہ لے سکتا ہے۔میجر جنرل آصف غفور نے کہاکہ بھارتی فوج کو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا ہمیشہ بھرپور جواب ملے گا۔ پاک فوج لائن آف کنٹرول کے ساتھ وہاں آباد شہریوں کی مکمل حفاظت کرے گی اور بھارتی فوج کو اپنے اقدام پر بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج کی اپنے ہلاک اور زخمی فوجیوں کواٹھانے کی کوششیں کرتے ہوئے سفیدجھنڈالہرادیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج کواشتعال انگیزیوں سے پہلے یہ سوچناچاہئے تھا۔ترجمان پاک فوج کے مطابق بھارت کوفوجی آداب کاخیال رکھتے ہوئے شہری آبادی کونشانہ نہیں بناناچاہیے تھا۔ ڈی جی آئی ایس پی نے بتایاکہ بھارتی میڈیاجھوٹے پروپیگنڈے میں مصروف ہوگیا،بھارتی میڈیانے مبینہ کیمپس کونشانہ بنانے کاجھوٹادعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت اخلاقی جرات سے پاک فوج کی جوابی کارروائی کے نقصانات سامنے لائے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت مقبوضہ کشمیرمیں صورتحال تک رسائی دینے کی بھی جرات کرے۔ انہوکں نے کہاکہ بھارت کے تمام جھوٹے دعوے منطقی انجام تک پہنچ چکے ہیں۔ ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے کہاکہ بھارت کایہ جھوٹادعویٰ بھی اپنے انجام تک پہنچے گا۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی میڈیاپاکستانی میڈیاسے زمہ دارانہ رپورٹنگ سیکھے۔ادھرمظفرآباد کے ڈپٹی کمشنر بدر منیر نے کہا کہ ' شیلنگ رات میں شروع ہوئی تھی اور بہت زیادہ تھی۔انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج نے مارٹر گولوں کا استعمال کیا اور شہری آبادیوں کو نشانہ بنایا۔علاوہ ازیں سوشل میڈیا پر ویڈیوز پوسٹ کرنے والے رہائشیوں نے بتایا کہ ٹریسر ہتھیار بھی فائر کیے تھے۔انہوں نے بتایا کہ اسی گاؤں میں غلام ربانی نامی شخص کے بیٹے حاجی سرفراز جاں بحق ہوئے، ارشاد نامی شخص کی اہلیہ نرگس زخمی ہوئیں۔ ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ نوسیری سیکٹر میں صوابی کے رہائشی 35 سالہ لیاقت خان اور ٹیکسلا کے رہائشی 30 سالہ فیصل لنک روڈ پر خیمے کے قریب شیل گرنے سے جاں بحق ہوئے، دونوں افراد پنجکوٹ روڈ پر مزدوروں کے طور پر کام کررہے تھ ے۔ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ نوسیری سیکٹر کے گاؤں کنور میں 38 سالہ شبیر اور ان کی 60 سالہ والدہ جاں بحق ہوگئیں۔انہوں نے بتایا کہ بھارتی شیلنگ کے نتیجے میں علاقے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لیا جارہا ہے۔آٹھمقام میں پولیس عہدیدار فیض طلب نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ جورا گاؤں میں جاں بحق شخص کی شناخت لورالائی کے رہائشی ظفر خان کے نام سے ہوئی جبکہ اسلام پورہ گاؤں میں ایک خاتون اور 3 بچیاں زخمی ہوگئیں۔انہوں نے بتایا کہ زخمیوں کو علاقے میں واقع ملٹری ہسپتال منتقل کیا گیا۔ فیض طلب نے بتایا کہ بھارتی شیلنگ کے نتیجے میں 43 دکانیں، 53 مکان، 6 گاڑیاں اور 3 موٹرسائیکلوں کو نقصان پہنچا۔ ادھرپاکستانی دفتر خارجہ نے بھارتی فورسز کی جانب سے ایل او سی پر جارحیت کے واقعہ پر بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر گورو اہلوالیہ کی دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجا ج کیا۔دفتر خارجہ نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو احتجاجی مراسلہ تھمایا گیا جس میں مطالبہ کیاکہ پاکستان سیز فائر معاہدے کی پاسدار کرے۔ترجمان نے کہاکہ بھارت کی طرف سے جوڑا شاہ کوٹ اور نوسہری پر سیز فائر خلاف ورزی کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ ترجمان کیم طابق بھارتی فوج نے 19 اور 20 اکتوبر کو ایل او سی پر بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی۔ طلبی ڈی جی ساؤتھ ایشیاء و سارک ڈاکٹر محمد فیصل نے کی۔ ترجمان کے مطابق شہداء میں محمد رفاقت، 60سالہ حاجی اعظم،47سالہ حاجی سرفراز،28سالہ لیاقت اور فیصل شامل ہیں۔ترجمان کے مطابق بھارتی فائرنگ سے 6 شہری شدید زخمی ہوئے،زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ترجمان کے مطابق بھارت کنٹرول لائن پر فائرنگ کے زریعے مقبوضہ کشمیر میں اپنے مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانا چاہتا ہ ے۔ترجمان نے بتایاکہ بھارت اقوام متحدہ کے امن مشن کوسلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کردارادا کرنے دے۔ترجمان کے مطابق بھارت کی طرف سے2017سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں تیزی آئی ہے۔ترجمان نے کہاکہ بھارت کی جنگ بندی کی خلاف ورزی علاقائی امن و سلامتی کیلئے خطرہ ہے پاکستان نے بھارت پر زور دیا ہے کہ2003کی جنگ بندی مفاہمت کا احترام کرے۔ترجمان نے کہاکہ بھارت اپنی افواج کو جنگ بندی پرمکمل عملدرآمد کی ہدایت کرے، لائن آف کنٹرول اورورکنگ باؤنڈری پر بھارت امن برقرار رکھے۔

loading...