بدھ‬‮ ، 07 اکتوبر‬‮ 2026 

عبد الغفور حیدری کی سربراہی میں حکومت سے کوئی مذاکرات نہیں ہونگے،مولانافضل الرحمان کا اے این پی سے رابطہ،دوٹوک اعلان کردیا

datetime 20  اکتوبر‬‮  2019 |

پشاور(این این آئی) جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمان کی اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان سے ٹیلی فونک رابطہ،آزادی مارچ کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا، قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان نے گفتگو کے دوران کہا کہ حکومت مذاکرات کے حوالے سے غلط فہمیاں پیدا کررہی ہے،جمیعت علمائے اسلام نے حکومت سے مذاکرات کیلئے نہ کوئی کمیٹی تشکیل دی ہے اور نہ ہی کوئی مذاکرات ہورہے ہیں،جس کے جواب میں صوبائی صدر ایمل ولی خان نے قائد جمعیت کو اس عزم کا اعادہ کیا کہ اے این پی اپنے قائد اسفندیار ولی خان کے

حکم کے مطابق آزادی مارچ میں شرکت کریگی،اے این پی کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ کون مذاکرات کررہا ہے یا مذاکرات کے حوالے سے کوئی جو بھی پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، بلکہ اے این پی کی تمام صوبائی تنظیموں کا اس وقت فوکس آزادی مارچ ہے جس کیلئے اے این پی اپنی تیاریوں کو آخری شکل دے رہی ہے۔جس کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے اے این پی کے صوبائی صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آزادی مارچ کے حوالے سے کسی بھی پیش رفت سے انہیں آگاہ کیا جائیگا اور مذاکرات کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ رہبر کمیٹی کرے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…