ہفتہ‬‮ ، 31 جنوری‬‮ 2026 

آزادی مارچ روکنے کیلئے پولیس کی حکمت عملی تیار، سینکڑوں کنٹینرز منگوالیے مولانا کی فورس کے مقابلے میں پولیس کے اسلحہ خانے میں کتنا مال ہے؟جانئے

datetime 19  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(این این آئی) آزادی مارچ کو روکنے کیلئے پولیس نے حکمت عملی تیار کرلی، سیکڑوں کنٹینرز منگوالیے، 31 اکتوبر سے وفاقی دارالحکومت پولیس یا جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) کی جانب سے سیل کیے جانے کا امکان ہے ۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق پولیس افسران نے بتایا کہ اسلام آباد پولیس نے 550 سے زائد شپنگ کنٹینرز کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مارچ کو اسلام آباد میں داخل ہونے سے پہلے ہی روک دیا جائے۔انہوں نے بتایا کہ سٹی، صدر، انڈسٹریل ایریا اور رورل پولیس کے زونل سپرنٹنڈنٹس کی جانب سے پولیس کے لاجسٹک ڈویژن سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے۔سٹی زون کی جانب سے 250 کنٹینرز کا مطالبہ کیا ہے جبکہ دیگر 3 زونز نے 100، 100 کنٹینر مانگے ہیں جس کے بعد محکمہ لاجسٹکس نے وینڈرز کو 450 کنٹینرز کا انتظام کرنے کا کہہ دیا ہے، ساتھ ہی یہ بھی درخواست کی گئی ہے کہ مزید ضروریات کے لیے بھی وہ تیار رہیں۔افسران کے مطابق ہر کنٹینر کے یومیہ کرائے کی مالیت 5 ہزار روپے سے زائد ہے۔اسلام آباد میں تقریباً 100 کنٹینرز ریڈ زون کے اندر اور اطراف میں 10 مقامات کیلئے درکار ہوں گے، ان مقامات میں پی ٹی وی چوک، ایوب چوک، آغا خان روڈ، شاہراہ دستور پرسیکریٹریٹ چوک اور فرانس چوک، شاہراہ جمہوریت پر ریڈیو پاکستان چوک، خیابان سہروردی پر سرینا چوک، مری روڈ اور مارگلہ روڈ پر کنوینشن سینٹر شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ پولیس نے ایکسپریس وے کی فیض آباد سے کورل فلائی اوور تک دونوں طرف سے جڑنے والی ہر سڑک کو بلاک کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ یہ علاقہ مظاہروں اور امن و امان کے دیگر مسائل کے دوران ان کے لیے واٹرلوو بن گیا ہے۔

افسران نے بتایا کہ راولپنڈی سے آئی۔جی پرنسل روڈ کے لیے جڑنے والی تمام سڑکوں کو بھی سیل کیے جانے کا امکان ہے اور یہ اقدام مارچ میں شریک ہونے والے یا دارالحکومت میں جمع ہونے والے لوگوں کو روکنے کے لیے کیا جائیگا۔انہوں نے بتایا کہ محکمہ لاجسٹک کے اسلحہ خانے میں ایک ہزار گیس ماسک، 200 آنسو گیس کے لانچر اور 13 ہزار شیل موجود ہیں، اس کے ساتھ ساتھ اگر ضرورت ہوئی تو کافی لاٹھیاں، پلاسٹک ہیل میٹس، جیکٹس، شیلڈ، شن گارڈز اور اسلحہ موجود ہے۔

دوسری جانب افسران کے مطابق پولیس کی جانب سے مقامی تاجروں کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر انہوں نے آزادی مارچ کے منتظمین یا شرکا کے ساتھ کوئی کاروبار کیا تو قانون کارروائی کی جائیگی۔ان تاجروں میں کھانا پکانے والی سروسز، ٹینٹ سروس، ہوٹلز، موٹلز، گیسٹ ہاؤسز اور سرائے خانے، جنریٹرز، ورکشاپس، ہارڈویئر اسٹورز، ویلڈنگ ورکشاپس، ساؤنڈ سسٹم سروسز، کھدائی کرنے والے اور کرین مالکان شامل ہیں۔

موضوعات:



کالم



اصفہان میں دو دن


کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…