اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

آزادی مارچ روکنے کیلئے پولیس کی حکمت عملی تیار، سینکڑوں کنٹینرز منگوالیے مولانا کی فورس کے مقابلے میں پولیس کے اسلحہ خانے میں کتنا مال ہے؟جانئے

datetime 19  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(این این آئی) آزادی مارچ کو روکنے کیلئے پولیس نے حکمت عملی تیار کرلی، سیکڑوں کنٹینرز منگوالیے، 31 اکتوبر سے وفاقی دارالحکومت پولیس یا جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) کی جانب سے سیل کیے جانے کا امکان ہے ۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق پولیس افسران نے بتایا کہ اسلام آباد پولیس نے 550 سے زائد شپنگ کنٹینرز کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مارچ کو اسلام آباد میں داخل ہونے سے پہلے ہی روک دیا جائے۔انہوں نے بتایا کہ سٹی، صدر، انڈسٹریل ایریا اور رورل پولیس کے زونل سپرنٹنڈنٹس کی جانب سے پولیس کے لاجسٹک ڈویژن سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے۔سٹی زون کی جانب سے 250 کنٹینرز کا مطالبہ کیا ہے جبکہ دیگر 3 زونز نے 100، 100 کنٹینر مانگے ہیں جس کے بعد محکمہ لاجسٹکس نے وینڈرز کو 450 کنٹینرز کا انتظام کرنے کا کہہ دیا ہے، ساتھ ہی یہ بھی درخواست کی گئی ہے کہ مزید ضروریات کے لیے بھی وہ تیار رہیں۔افسران کے مطابق ہر کنٹینر کے یومیہ کرائے کی مالیت 5 ہزار روپے سے زائد ہے۔اسلام آباد میں تقریباً 100 کنٹینرز ریڈ زون کے اندر اور اطراف میں 10 مقامات کیلئے درکار ہوں گے، ان مقامات میں پی ٹی وی چوک، ایوب چوک، آغا خان روڈ، شاہراہ دستور پرسیکریٹریٹ چوک اور فرانس چوک، شاہراہ جمہوریت پر ریڈیو پاکستان چوک، خیابان سہروردی پر سرینا چوک، مری روڈ اور مارگلہ روڈ پر کنوینشن سینٹر شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ پولیس نے ایکسپریس وے کی فیض آباد سے کورل فلائی اوور تک دونوں طرف سے جڑنے والی ہر سڑک کو بلاک کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ یہ علاقہ مظاہروں اور امن و امان کے دیگر مسائل کے دوران ان کے لیے واٹرلوو بن گیا ہے۔

افسران نے بتایا کہ راولپنڈی سے آئی۔جی پرنسل روڈ کے لیے جڑنے والی تمام سڑکوں کو بھی سیل کیے جانے کا امکان ہے اور یہ اقدام مارچ میں شریک ہونے والے یا دارالحکومت میں جمع ہونے والے لوگوں کو روکنے کے لیے کیا جائیگا۔انہوں نے بتایا کہ محکمہ لاجسٹک کے اسلحہ خانے میں ایک ہزار گیس ماسک، 200 آنسو گیس کے لانچر اور 13 ہزار شیل موجود ہیں، اس کے ساتھ ساتھ اگر ضرورت ہوئی تو کافی لاٹھیاں، پلاسٹک ہیل میٹس، جیکٹس، شیلڈ، شن گارڈز اور اسلحہ موجود ہے۔

دوسری جانب افسران کے مطابق پولیس کی جانب سے مقامی تاجروں کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر انہوں نے آزادی مارچ کے منتظمین یا شرکا کے ساتھ کوئی کاروبار کیا تو قانون کارروائی کی جائیگی۔ان تاجروں میں کھانا پکانے والی سروسز، ٹینٹ سروس، ہوٹلز، موٹلز، گیسٹ ہاؤسز اور سرائے خانے، جنریٹرز، ورکشاپس، ہارڈویئر اسٹورز، ویلڈنگ ورکشاپس، ساؤنڈ سسٹم سروسز، کھدائی کرنے والے اور کرین مالکان شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…