بدھ‬‮ ، 07 اکتوبر‬‮ 2026 

2017سے تاحال صرف نیب لاہور میں 1 لاکھ افراد تحقیقاے کیلئے طلب،کتنے افراد کو گرفتار کیاگیا؟چونکا دینے والے انکشافات

datetime 15  اکتوبر‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی)قومی احتساب بیورو (نیب)لاہور نے مجموعی طور پر طلب کئے گئے اور گرفتار ہونے والے ملزمان کے اعدادوشمار فراہم کردیئے۔تفصیلات کے مطابق 2017 سے تاحال نیب لاہور میں کم و بیش 1 لاکھ افراد کوتحقیقاے کیلئے طلب کیا گیا۔ڈھائی سالوں میں دوران تحقیقات ٹھوس شواہد کی بنیاد پر 859 ملزمان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری ہوئے جن پر عملدرآمد کیا گیا۔جبکہ نیب لاہور کے قیام (1999) سے 2016 تک تقریبا 7 لاکھ افراد کو مختلف نوعیت کے مقدمات میں طلب کیا گیا۔17 سالوں کے دوران 7 لاکھ میں سے کل 1532 ملزمان

کی گرفتاری پر عملدرآمد کیا گیا۔تفصیلات فراہم کرتے ہوئے نیب لاہور کی جانب سے اس تاثر کی نفی کی گئی کہ نیب میں ملزمان کو طلب کر کے بٹھا لیا جاتا ہے۔ترجمان کے مطابق نیب ایک قومی ادارہ ہے جس کے تمام اقدامات قانون اور آئین کی روشنی میں سرانجام پاتے ہیں،نیب میں ماورائے آئین کسی نوعیت کے اقدام کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا،ملزمان کی گرفتاری مروجہ قوانین کے مطابق اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر ہی عمل میں لائی جاتی ہے،دوران تحقیقات متعدد افراد کو معاونت کیلئے بھی طلب کیا جاتا ہے جنکی گرفتاری مقصود نہیں ہوتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…