اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

غیر جمہوری اور غیر آئینی راستہ ملک کیلئے خطرناک،مولانافضل الرحمان کا ”دھرنا“ ہوگا یا نہیں؟ ن لیگ کا حیرت انگیز موقف سامنے آگیا

datetime 15  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان مسلم لیگ ن کے جنرل سیکرٹری احسن اقبال نے کہا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف)نے دھرنے کا نہیں آزادی مارچ کا اعلان کر رکھا ہے دھرنے کا لفظ تو میڈیا لے کر آیا ہے، پارٹی نوازشریف کی قیاد ت میں متحد ہے، پارٹی میں دھڑے بندیوں کے حوالے سے خبر بے بنیاد ہے،مولانا فضل الرحمان کی پالیسی پارٹی کے اجلاس میں مزید کچھ چیزیں سامنے آئیں گی،(آج) مولانا فضل الرحمان لاہور میں شہباز شریف سے ملاقات کریں گے، غیر جمہوری اور

غیر آئینی راستہ اس ملک کے لیے خطرناک ثابت ہو گا۔ ایک انٹرویومیں جنرل سیکرٹری پاکستان مسلم لیگ ن احسن اقبال نے کہا کہ غلط خبریں چلائی جا رہی ہیں کہ مسلم لیگ (ن)میں دھڑے بندیاں ہو گئی ہیں لیکن پارٹی نواز شریف کی قیادت میں متحدہے۔انہوں نے کہا کہ پارٹی میں جمہوریت ہے اور اجلاسوں کے دوران لوگ اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں جو سب کا حق ہے تاہم جب کوئی فیصلہ ہو جاتا ہے سب اس پر متفق ہوتے ہیں۔ نواز شریف نے ایک ہی خط شہباز شریف کو لکھا گیا تھا اس کے علاوہ کوئی خط نہیں لکھا گیا۔احسن اقبال نے کہا کہ شہباز شریف کی پارٹی سے صدارت سے علیحدگی کی تمام خبریں غلط ہیں۔ خود جے یو آئی ف کی قیادت بھی دھرنے میں بیٹھنے کی مخالف ہے وہ آزادی مارچ کر رہے ہیں دھرنے کا لفظ تو میڈیا نے پیدا کیا ہے۔ جے یو آئی ف کے رہنما کہہ رہے ہیں دھرنے کا لفظ استعمال نہیں کیا جائے یہ صرف آزادی مارچ ہے۔انہوں نے کہا کہ پارٹی رہنماؤں نے نواز شریف کے خط پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔مولانا فضل الرحمان کی پالیسی پارٹی کے اجلاس میں مزید کچھ چیزیں سامنے آئیں گی اور 16 اکتوبر کو مولانا فضل الرحمان لاہور میں شہباز شریف سے ملاقات کریں گے۔مسلم لیگ (ن)کے رہنما نے کہا کہ نواز شریف جمہوری طریقے سے احتجاج کے حامی ہیں اور وہ چاہتے ہیں تمام جماعتیں اس احتجاج میں شریک ہوں اور

ہم منظم طریقے سے اپنا احتجاج ریکارڈ کرا سکیں جو اثر انداز بھی ہو۔انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ مکمل طور پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کا پروگرام ہے اور دیگر حزب اختلاف کی جماعتوں سے صرف تعاون مانگا گیا ہے جو آزادی مارچ میں تعاون کر رہی ہیں۔احسن اقبال نے کہا کہ ہم اپنے قائد نواز شریف کی ہدایت پر چلنے کے پابند ہیں اور جب ان کا فیصلہ آ گیا تو ہماری رائے ختم ہو گئی۔ حزب اختلاف کی سب جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ تحریک انصاف ملک کو بند گلی میں لے آئی ہے اور

معیشت کا برا حال ہے اور اگر یہ معاملہ مزید ایک سال اسی طرح چلتا رہا تو شاید پھر پاکستان کی حکومت لینے کو کوئی تیار بھی نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ غیر جمہوری اور غیر آئینی راستہ اس ملک کے لیے خطرناک ثابت ہو گا اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ انتخابات کا سہارا لے کر نئی حکومت لائی جائے۔ اس وقت تاجر برادری عدم تحفظ کا شکار ہیں اور بہت زیادہ بد اعتمادی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔جنرل سیکرٹری پاکستان مسلم لیگ (ن)نے کہا کہ ہم اپنے احتجاج کو پر امن رکھنا چاہتے ہیں اور ہماری کوشش ہو گی کہ کوئی ٹکراؤ کی صورتحال پیدا نہ ہو۔ عمران خان اپنے تمام دئیے گئے فتاویٰ پر عمل کر کے دکھائیں۔انہوں نے کہا کہ ہم ملک کو ایک نئے اور شفاف انتخابات کی طرف لے کر جانا چاہتے ہیں تاکہ ملک دوبارہ ترقی کی طرف گامزن ہو اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…