اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سینئر صحافی اور کالم نگار سہیل وڑائچ نے موجودہ سیاسی مذاکرات کے حوالے سے تجزیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ طویل عرصے سے ملکی سیاست کی رپورٹنگ کے تجربے کی بنیاد پر انہیں مذاکرات کے دائرہ کار کی کچھ واضح حدود دکھائی دیتی ہیں، جن سے آگے بڑھنے کے امکانات فی الحال محدود ہیں۔
اپنے کالم میں ان کا کہنا ہے کہ بات چیت کے نتیجے میں ممکنہ طور پر عمران خان کے ہسپتال جانے اور طبی معائنے کا سلسلہ بحال ہوسکتا ہے، جبکہ بشریٰ بی بی کو اڈیالہ جیل سے بنی گالہ منتقل کرنے کے ساتھ پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والی زیرحراست خواتین رہنماؤں اور عمران خان کی بہنوں کی رہائی بھی ممکنہ اقدامات میں شامل ہوسکتی ہے۔سہیل وڑائچ کے مطابق اس وقت عمران خان کی فوری رہائی یا ان کی عملی سیاست میں باضابطہ واپسی کے امکانات دکھائی نہیں دیتے۔انہوں نے کالم میں یہ رائے بھی ظاہر کی کہ بشریٰ بی بی کو بنی گالہ منتقل کرنے کا فیصلہ ایک وسیع تر سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہوسکتا ہے۔ ان کے بقول اس اقدام سے علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کے حامی حلقوں کے درمیان موجود اختلافات مزید نمایاں ہونے کا امکان ہے، جبکہ پارٹی کے اندر علیمہ خان کے اثر و رسوخ میں بھی کمی آسکتی ہے۔کالم نگار نے دعویٰ کیا کہ حکومت اور مقتدر حلقے سوشل میڈیا پر جاری سخت اور جارحانہ سیاسی بیانیے سے بھی ناخوش ہیں۔
ان کے مطابق ایک خواہش یہ بھی ہوسکتی ہے کہ تحریک انصاف کو مختلف دھڑوں میں تقسیم کیا جائے، جن میں بیرون ملک موجود پی ٹی آئی اور ملک کے اندر سرگرم جماعت الگ الگ گروہوں کی شکل اختیار کریں۔سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں سیاسی قوتوں اور مقتدر حلقوں کے لیے یہ ایک حساس مرحلہ ہے۔ مذاکرات کامیاب ہوئے تو سیاسی ماحول میں بہتری اور متعلقہ فریقوں کی ساکھ میں اضافہ ہوسکتا ہے، تاہم بات چیت ناکام ہونے کی صورت میں عوامی مایوسی اور سیاسی بے یقینی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ کسی فوری انقلاب یا حکومت کی تبدیلی کے امکانات نظر نہیں آتے۔ تاہم اگر سیاسی تناؤ کم ہو، پارلیمان اپنا کردار مؤثر انداز میں ادا کرے، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطے بحال ہوں، عمران خان کے طبی معائنے کے لیے ہسپتال جانے کی اجازت ملے اور زیرحراست خواتین کے ساتھ نرمی برتی جائے تو اسے موجودہ طویل سیاسی بحران میں مذاکرات کی ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جاسکتا ہے۔
برسوں سے رپورٹنگ کرنے کے باعث قلم گھیسٹیے کو اندازہ ہے کہ مذاکرات کے نتیجے میں عمران خان کی اسپتال آمدورفت شروع ہو سکتی ہے، بشریٰ بی بی کو بنی گالہ منتقل کیا جا سکتا ہے ،بہنوں کو رہا کیا جاسکتا ہے، یہ وُہ حدود ہیں جن سے باہر نکلنے کا امکان نظر نہیں آتا۔ عمران خان کی رہائی یا سیاست میں واپسی کا فی الحال کوئی امکان نہیں بشریٰ عمران کی بنی گالہ منتقلی دراصل ایک نئی اسٹرٹیجی کا حصہ ہوگی جس میں علیمہ خانم اور بشریٰ عمران دونوں گروپوں کو الگ الگ کرنا ہے، بشریٰ عمران کے بنی گالہ منتقل ہونے سے علیمہ خانم کی طاقت کمزور ہوگی کیونکہ عمران خان اپنی بہن کی نسبت اپنی مرشد بیوی کی بات زیادہ مانتے ہیں
https://t.co/9OA1EjZPvc— Suhail Warraich (@suhailswarraich) October 5, 2026



















































