حکومت کی پالیسیوں کے مثبت اثرا ت آنا شروع مالیاتی خسارے میں کتنے فیصد کمی آ گئی؟خوشخبری سنا دی گئی

  ہفتہ‬‮ 12 اکتوبر‬‮ 2019  |  16:46

اسلام آؓباد(آن لائن) مشیر خزانہ عبدالفیظ شیخ نے کہاہے کہ حکومت کی بہترین معاشی پالیسیوں کی وجہ مالیاتی خسارہ میں 35فیصد کمی جبکہ محصولات میں 16فیصد اور نان ٹیکس ریونیو میں 140فیصد اضافہ ہوا ہے ، ملکی برآمدات میں اضافہ جبکہ درآمدات میں کمی کی وجہ سے ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر میں استحکام رہا ہے۔ جس سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے ، یو آے ای حکومت کے ساتھ آقامہ کے غلط استعمال پر بات چیت ہوئی ہے بیرون ممالک پاکستانیوں کی جائیدادوں کا ڈیٹا جلد حاصل کر لیں گے ۔ہفتہ کے روز چیرمین


ایف بی آر شبر زیدی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مشیر خزانہ نے کہاکہ گذشتہ ایک سال کے دوران ملکی معیشت کو بہتر کرنے کیلئے اقدامات کئے گئے جن کے نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں انہوں نے کہاکہ ٹیکس نیٹ میں مزید 8لاکھ افراد کا اضافہ کیا گیا ہے اسی طرح برآمدی سیکٹر کو بہتر بنانے کیلئے بجلی گیس سمیت دیگر سہولیات فراہم کی گئی ہیں انہوں نے کہاکہ گذشتہ ایک سال کید ورن حکومت نے 2بڑے مالیاتی خساروں پر قابو پایا ہے جن میں ایک بیرونی تجارتی خسارہ ہے جو گذشتہ سال 9ارب ڈالر تھا جبکہ اس سال 5ارب 70کروڑ ڈالر رہا ہے اسی طرح حکومت کا مالیاتی خسارہ بھی گذشتہ تین ماہ کے دوران 35فیصد کم کیا گیا ہے انہوں نے کہاکہ گذشتہ سال کے تین ماہ کے دوران مالیاتی خسارہ 738ارب روپے تھا جبکہ حالیہ تین مہینوں کے دوران یہ خسارہ کم ہوکر 476ارب روپے رہاانہوں نے کہاکہ محصولات کے شعبے میں 14فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ اخراجات میں کمی کی گئی ہے اور گذشتہ تین مہینوں کے دوران اسٹیٹ بنک سے کوئی قرضہ نہیں لیا گیا ہے اور نہ ہی کوئی سپلمنٹری گرانٹ جاری کی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کے نان ٹیکس آمدنی میں بھی 406ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے اور یہ گذشتہ سال کے مقابلے میں 140فیصد زیادہ ہے انہوں نے کہاکہ ہمارے بجٹ میں نان ٹیکس محصولات کا ہدف 1200ارب روپے ہے جبکہ اس کو 1600ارب روپے تک پہنچائیں گے انہوں نے کہاکہ سابقہ ادوار میں ایکسچینج ریٹ کو ایک حد پر رکھنے کیلئے کئی ارب ڈالر ضائع کردئیے جاتے تھے جبکہ ہم نے یہ کوشش کی ہے کہ پاکستان کے عوام کے پیسوں کو ضائع نہ کیا جائے اور اسی وجہ سے گذشتہ تین مہینوں سے ایکسچینج ریٹ مستحکم ہے اور ہمارے بیرونی ذخائر بھی مستحکم ہیں۔ انہوں نے کہاکہ گذشتہ 5سالوں کے دوران برآمدات کے شعبے میں اضافہ صفر فیصد تھاجبکہ گذشتہ ایک سال کے دوران حکومت کے بہتر اقدامات کی وجہ سے ملکی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے جبکہ درآمدات میں نمایاں کمی ہوئی ہے انہوں نے کہاکہ گذشتہ ایک سال کے دوران پاکستانیوں کی بیرون ممالک ملازمت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ گذشتہ سال جنوری سے اگست تک 2لاکھ 24ہزار افراد بیرون ممالک ملازمت کیلئے گئے جبکہ اس سال جنوری سے اگست تک 3لاکھ 73ہزار افراد بیرون ممالک ملازمت کیلئے گئے ہیں جس سے ملکی ذر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور معیشت مستحکم ہوگی انہوں نے کہاکہ بہترین معاشی پالیسیوں کی وجہ سے تجارتی خسارے میں فیصد کمی ہوئی ہے اسی طرح مالیاتی خسارے میں 35فیصد کمی ہوئی ہے ملکی برآمدات میں اضافہ جبکہ درآمدات میں کمی واقع ہوئی ہے۔ ایکسچینج ریٹ اور فارن ایکسچینج مستحکم بیرون ممالک پاکستانیوں کی ملازمتوںمیں اضافہ جبکہ سٹاک مارکیٹ میں بہتری ہوئی ہے انہوں نے کہاکہ حکومت نے گذشتہ ایک سال کے دوران بہت سے مشکل فیصلے کئے ہیں تاہم ان مشکل فیصلوں کے نتائج اب آنا شروع ہوگئے ہیں اور بین القوامی مالیاتی اداروں نے پاکستان کی معیشت کے استحکام کے بارے میں اچھی خبریں دینا شروع کر دی ہیں۔ پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے چیرمین ایف بی آر شبر زیدی نے بتایاکہ یواے ای کے حکام کے ساتھ اقامہ کے غلط استعمال کا معاملہ اٹھایا گیا ہے اور انہوں نے پاکستان کے موقف کو تسلیم کیا ہے انہوں نے کہاکہ اسی طر ح یو اے ای لینڈ اتھارٹی کے ساتھ پاکستانیوں کی ملکیتی جائیدادوں سے متعلق معاملات بھی اٹھائے گئے ہیں اور اس حوالے سے مثبت رد عمل ایا ہے پاکستان اور یو اے ای کے حکام ان معاملات پر بات چیت اسی مہینے کے دوران ہوگی۔ ایک سوال کے جواب میں حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ حکومت کے مشکل فیصلوں سے معیشت میں بہتری آ رہی ہے، مالیاتی خسارے میں 35 فیصد کمی جب کہ ریوینیو میں 16 فیصد اضافہ ہوا ہے انہوںنے کہاکہ پاکستان کی معشیت سے متعلق بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو گیا ہے اور گزشتہ تین ماہ میں 340 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری آئی ہے انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال تجارتی خسارہ 9 ارب ڈالر سے کم ہو کر 5 اعشاریہ 7 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔ جب کہ پی ایس ڈی پی میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں رواں سال زیادہ پیسے جاری کیے گئے ہیں جبکہ اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز پر آئندہ دو ہفتوں میں پالیسی آ رہی ہے جس میں اس شعبے کیلئے مراعات اور بزنس میں اسانی جیسے اقدامات شامل ہونگے انہوں نے کہاکہ حکومت کا خیال ہے کہ برآمدی شعبے میں ٹیکسٹائل کے علاوہ دیگر شعبوں کو بھی شامل کیا جائے تاکہ ان شعبوں کو بھی وہ سہولیات حاصل ہوسکیں ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت جو بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں عوام کے فائدے کے لیے کر رہے ہیں اگر ہم حکومت کا خسارہ کم کریں گے تو اس سے قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوگا جس کا فائدہ ملک کے عوام کو پہنچے گا اگر ملکی برآمدات میں اضافہ ہوتا ہے تو اس سے ملک کی معیشت میں بہتری آتی ہے اور تجارت بڑھے گی ۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ تین ماہ سے ایکسچینج ریٹ مستحکم ہے اور پیٹرول کی قیمت اس لیے نہیں بڑھی کیونکہ کرنسی میں استحکام آیا ہے۔ حفیظ شیخ نے کہا کہ حکومت آئی تو ملک کے معاشی حالات برے تھے اور ملک پر 30 ہزار ارب کے قرضے تھے، آئی ایم ایف، ایشیائی ترقیاتی بینک اور ورلڈ بینک سے قرضے ملے، اقتصادی اصلاحات کے اچھے اثرات آنا شروع ہو گئے ہیں، حکومت کے خسارے کو کم کرنے سے فائدہ عوام کو ہو گا۔انہوں نے بتایا کہ کابینہ اور وزیراعظم ہاؤس کے اخراجات میں کمی کی گئی، سویلین حکومت کے اخراجات میں 40 ارب روپے کی کمی کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے تین ماہ میں اسٹیٹ بینک کا منافع 85 ارب روپے ہے جس میں 200 ارب روپے کا اضافہ ہو سکتا ہے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کا منافع اب 70 ارب روپے ہے، ٹیلی کام کا 338 ارب روپے اضافی منافع آ سکتا ہے جب کہ ایل این جی پلانٹ کی نجکاری سے 300 ارب روپے اضافی منافع آسکتا ہے ان کا کہنا ہے کہ منی لا نڈرنگ روکنے کے لیے تمام اداروں کا مؤقف ایک ہے کہ منی لا نڈرنگ رکنی چاہیے۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے حوالے سے بات کرتے ہوئے حفیظ شیخ نے بتایا کہ 27 میں سے 20 اقدامات کیے جا چکے ہیں، کوشش ہے جلد از جلد گرے لسٹ سے نکل آئیں۔تاجروں کی جانب سے ہڑتال سے متعلق سوال پر حفیظ شیخ نے بتایا کہ تاجروں کے دو گروپوں سے 20 دفعہ سے زائد بار مذاکرات ہو چکے ہیں اور ان کے ساتھ مذاکرات اب بھی جاری ہیں انہوں نے کہاکہ ملک کے چھوٹے تاجروں کے لئے فکس ٹیکس کا نظام لارہے ہیں انہوں نے کہاکہ شناختی کارڈ کے مسئلہ اتنا بڑا نہیں ہے اور ہم اس پر تاجر برادری کو مطمئن کر دیں گے انہوںنے کہاکہ تاجروں کے ساتھ مذاکرات جاری رہیں گے ۔

موضوعات:

loading...