جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

فضل الرحمن پرپیسوں کی بارش،بڑے رئیل سٹیٹ ٹائیکون نے آزادی مارچ کیلئے بھاری رقم پہنچا دی

datetime 8  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر صحافی و تجزیہ کار عارف حمید بھٹی نے کہا کہ کچھ احتجاج ہوتے ہیں انصاف کے حصول اور عوام کی بہتری کے لیے۔ لیکن آج کل ہونے والے احتجاج لوٹ مار کا پیسہ بچانے کے لیے ، اقتدار میں حصہ لینے کے لیے اور مال پانی کمانے کے لیے ہو رہے ہیں۔ اب مولانا صاحب کے پاس بظاہر اقتدار نہیں ہے اور سرکاری مال پانی نہیں آ رہا۔

نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ 2 سیاسی جماعتیں ہیں جن پر کھربوں روپے کا چارج ہے اور جن پر بعض ڈیل اور ڈھیل دینے والے ریکوری نہیں ہونے دے رہے، ان کے لیے دو چار ارب روپیہ بانٹنا ایسے ہی ہے جیسے ہمارے لیے دو چار سو روپیہ۔ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ مولانا صاحب کو پیسوں کی قسط پہنچ چکی ہے۔نہ صرف دو بڑی جماعتوں نے مولانا صاحب کو پیسے پہنچا دیئے ہیں بلکہ کچھ ایسے لوگ جو فراڈیے ہیں جو اربوں کھربوں روپے کی زمینوں کا ہاؤسنگ سوسائٹیز کے نام پر فراڈ کرتےہیں، انہوں نے بھی اِن ڈائریکٹ پیسے پہنچانے شروع کر دئیے ہیں۔مولانا فضل الرحمن پہلے سیاستدان ہوں گے جو مارچ میں بھی پیسہ کما جائیں گے۔ ان کے پیسے لگیں گے بھی لیکن اس میں بھی مولانا صاحب کو منافع ہی ہو گا کیونکہ ان کو پیسے دینے والے بہت لوگ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیوروکریسی بھی چاہتی ہے کہ حکومت جلدی چلی جائے جس کا ذمہ دار میں عمران خان کی ٹیم کو قرار دوں گا جن کو انہیں منانا ہی نہیں آیا نہ وہ بیوروکریسی کو ہینڈل کر سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…